حدیث نمبر: 16617
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ : أَنَّهُ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَسْتَبِقَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ ، وَقَالَ : " إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ ، وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا اللَّهُ بِوَجٍّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ وَجٍّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " آخِرُ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ " . وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ( جو اس وقت بچے تھے ) وہ دونوں دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن دونوں کو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور یہ ارشاد فرمایا : ” اولاد ( آدمی کو ) کنجوس اور بزدل بنا دیتی ہے اور آخری روندنا ، جو اللہ تعالی روندے گا وہ ” وج “ کے مقام پر ہو گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے لیکن انہوں نے ” وج “ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” وہ آخری روندنا ، جو تمام جہانوں کا پروردگار روندے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16617
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (172/4)»