مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ وَجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَالطَّائِفِ . باب: اہل حجاز ، جزیرہ عرب ، اور طائف کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ مُحْتَضِنًا ابْنَيِ ابْنَتِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " وَاللَّهِ ، إِنَّكُمْ تُجَبِّنُونَ وَتُبَخِّلُونَ ، وَإِنَّكُمْ لَمِنْ رَيْحَانِ اللَّهِ ، وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا اللَّهُ بِوَجٍّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ خَالِيًا عَنْ ذِكْرِ وَجٍّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " آخِرُ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ " . ¤ وَقَالَ سُفْيَانُ : آخِرُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الطَّائِفُ ، قَالَ الشَّاعِرُ : ¤ لَأَطَأَنَّكُمْ وَطْأَةَ الْمُتَادَلِ . وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَا أَعْلَمُ لَهُ سَمَاعًا مِنْ خَوْلَةَ . ¤سیده خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، آپ نے اپنے دونوں نواسوں کو گود میں اُٹھایا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : ” اللہ کی قسم ! تم ( یعنی انسان کی اولاد ) بزدل اور کمزور بنا دیتے ہو ، البتہ یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عطا کئے ہوئے پھول ہو ، اور بے شک آخری روندنا ، جو اللہ تعالی روندے گا وہ ” وج “ کے مقام پر ہو گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے لیکن انہوں نے اس روایت میں ” وج “ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : وہ آخری روندنا ہو گا ، جو تمام جہانوں کا پروردگار اس کو روند دے گا ۔ “ سفیان نامی راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری غزوہ کیا تھا وہ غزوہ طائف تھا ، شاعر نے کہا: ہے : ” میں تم لوگوں کو یوں روند دوں گا ، جس طرح کوئی زخمی روندتا ہے ۔ “ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ میرے علم کے مطابق عمر بن عبدالعزیز نامی راوی نے سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ۔