مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ الْقَيْسِ . باب: عبدالقیس قبیلے کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ نُوحِ بْنِ مَخْلَدٍ : أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِمَكَّةَ فَسَأَلَهُ : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ " . فَقَالَ : أَنَا مِنْ ضُبَيْعَةَ مِنْ رَبِيعَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ رَبِيعَةَ عَبْدُ الْقَيْسِ ، ثُمَّ الْحَيُّ الَّذِي أَنْتَ مِنْهُمْ " . قَالَ : وَأَبْضَعَ مَعَهُ فِي جُلْبَتَيْنِ إِلَى الْيَمَنِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَأَبْضَعَ مَعَهُ فِي جَيْشٍ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا نوح بن مخلد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مکہ میں تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : میں ضبیعہ بن ربیعہ سے تعلق رکھتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ربیعہ میں سب سے بہتر عبدالقیس قبیلہ ہے ، اور پھر وہ قبیلہ ہے جس سے تم تعلق رکھتے ہو ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہمراہ کچھ ساز و سامان بھی یمن بھیجا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہمراہ ایک لشکر میں سامان بھیجا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔