مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَحْمُسَ . باب: احمس قبیلے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَفِي رِوَايَةٍ : قَدِمَ وَفْدُ أَحْمُسَ وَوَفْدُ قَيْسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ابْدَءُوا بِالْأَحْمُسِيِّينَ قَبْلَ الْقَيْسِيِّينَ " . ثُمَّ دَعَا لِأَحْمُسَ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي أَحْمُسَ وَخَيْلِهَا وَرِجَالِهَا " . سَبْعَ مَرَّاتٍ . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " ابْدَءُوا بِالْأَحْمُسِيِّينَ قَبْلَ الْقَيْسِيِّينَ " . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” احمس قبیلے کے اور قیس قبیلے کے لوگوں کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیس قبیلے سے پہلے احمس قبیلے کے لوگوں کو آنے دو ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احمس قبیلے کے لوگوں کے لئے دعا کرتے ہوئے یہ کہا: ” اے اللہ ! تو احمس قبیلے کے لوگوں ، اُن کے گھڑ سواروں اور ان کے پیادہ افراد میں برکت رکھ دے ! “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مرتبہ ارشاد فرمائے ۔
یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، امام طبرانی نے ان کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں قبیلے سے پہلے احمس قبیلے کے لوگوں کو آنے دو ! “ ۔ ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔