مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَحْمُسَ . باب: احمس قبیلے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : قَدِمَ وَفْدُ بَجِيلَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اكْتُبُوا الْبَجَلِيِّينَ وَابْدَءُوا بِالْأَحْمُسِيِّينَ " . قَالَ : فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ ، قَالَ : حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَقُولُ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَدَعَا لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَ مَرَّاتٍ : " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ ، - أَوِ اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِمْ - " . مُخَارِقٌ الَّذِي شَكَّ . ¤سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ” بجیلہ “ قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بجیلہ قبیلے کے لوگوں کا نام نوٹ کرو اور احمس قبیلے کے لوگوں سے آغاز کرو ! راوی بیان کرتے ہیں : اس قبیلے کا ایک فرد پیچھے رہ گیا ، راوی کہتے ہیں : میں اس بات کا جائزہ لے رہا تھا کہ اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے کیا کہتے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لئے پانچ مرتبہ دعا کی : ” اے اللہ ! ان پر رحمت نازل فرما ! “ ۔ یا شاید یہی الفاظ تھے : ” اے اللہ ! ان میں برکت رکھ دے ۔ “ یہ شک مخارق نامی راوی کو ہے ۔