حدیث نمبر: 16569
وَعَنْ ذُؤَيْبٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ عَتِيقًا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ قَصْدًا ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْتَظِرِي حَتَّى يَجِيءَ فَيْءُ الْعَنْبَرِ غَدًا " . فَجَاءَ فَيْءُ الْعَنْبَرِ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خُذِي مِنْهُمْ أَرْبَعَةً ، صِبَاحٌ مِلَاحٌ ، لَا تُخَبَّأُ مِنْهُمُ الرُّءُوسُ " . ¤ قَالَ عَطَاءٌ : فَأَخَذَتْ جَدِّي رُدَيْحًا ، وَأَخَذَتِ ابْنَ عَمِّي سَمُرَةَ ، وَأَخَذَتِ ابْنَ عَمِّي زُخَيًّا ، وَأَخَذَتْ خَالِي زُبَيْبًا . ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَمَسَحَ بِهَا رُؤُوسَهُمْ ، وَبَرَّكَ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " هَؤُلَاءِ يَا عَائِشَةُ ، مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ قَصْدًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ فِيهِ : " خُذِي أَرْبَعَةَ غِلْمَةٍ صِبَاحٍ " . وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

ذؤیب بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی کو آزاد کرنا چاہتی ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم انتظار کرو ! کل جب ہمارے پاس عنبر قبیلے کا مال فے آئے گا ( یعنی پھر تم ایسا کر لینا ) راوی بیان کرتے ہیں : پھر عنبر قبیلے کا مال فے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم ان میں سے چار افراد وصول کر لو ، جو صبیح و ملیح ہیں ، ان میں سے کسی فرد کو سنبھال کے نہیں رکھا جائے گا ۔
عطاء کہتے ہیں : تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے میرے دادا ” ردیح “ کو میرے چچازاد ” سمرہ “ کو میرے ایک اور چچازاد ” زخیا “ کو اور میرے ماموں ” زبیب “ کو حاصل کر لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اُٹھایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دست مبارک ان لوگوں کے سر پر پھیرا اور اُن کو برکت کی دعاء دی اور ارشاد فرمایا : ” اے عائشہ ! یہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ ہیں ، جنہیں کثرت کے ساتھ آزاد کیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تم چار ایسے افراد حاصل کر لو جو صبیح لڑکے ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
اس روایت کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16569
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4216)»