حدیث نمبر: 16553
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ الْكِنَانِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا رَجُلٌ يُخْبِرُنِي عَنْ مُضَرَ ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا أُخْبِرُكَ عَنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَّا وَجْهُهَا الَّذِي فِيهِ سَمْعُهَا وَبَصَرُهَا فَهَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ . وَأَمَّا لِسَانُهَا الَّذِي تُعْرِبُ بِهِ فِي أَنْدِيَتِهَا فَهَذَا الْحَيُّ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ . وَأَمَّا كَاهِلُهَا فَهَذَا الْحَيُّ مِنْ بَنِي تَمِيمِ بْنِ مُرَّةَ . وَأَمَّا فُرْسَانُهَا فَهَذَا الْحَيُّ مِنْ قَيْسِ عَيْلَانَ . قَالَ : فَنَظَرْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَالْمُصَدِّقِ لَهُمْ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوطفیل کنانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا کوئی ایسا شخص ہے ؟ جو مجھے مضر کے بارے میں خبر دے ، حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : میں آپ کو ان کے بارے میں بتاتا ہوں ، یا رسول اللہ ! جہاں تک ان کے چہرے کا تعلق ہے ، جس میں ان کی سماعت اور بصارت ہے تو وہ قریش کا یہ قبیلہ ہے جہاں تک ان کی زبان کا تعلق ہے ، جس کے ذریعے وہ محفلوں میں گفتگو کرتے ہیں ، تو وہ بنو اسد بن خزیمہ کا یہ قبیلہ ہے ، جہاں تک ان کی ” کاہل “ ( نامی رگ ) کا تعلق ہے تو وہ بنو تمیم بن مر کا یہ قبیلہ ہے ، جہاں تک ان کے شہسواروں کا تعلق ہے تو وہ قیس عیلان کا یہ قبیلہ ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات کی تصدیق کر رہے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16553
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2820)»