حدیث نمبر: 16502
وَعَنْ مُهَاجِرِ بْنِ دِينَارٍ : أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ مَرَّ بِمَرْوَانَ يَوْمَ الدَّارِ وَهُوَ صَرِيعٌ فَقَالَ : يَا ابْنَ الزَّرْقَاءِ ، لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ حَيٌّ أَجَزْتُ عَلَيْكَ ، فَحَقَدَهَا عَلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عَبْدُ الْمَلِكِ أَتَى بِهِ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : احْفَظْ فِيَّ وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ : وَمَا ذَاكَ ؟ فَقَالَ : " احْفَظُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " . وَكَانَ أَبُو سَعِيدٍ زَوْجَ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

مہاجر بن دینار بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوسعید انصاری رضی اللہ عنہ ایک دن مروان کے پاس سے گزرے ، یہ اس وقت کی بات ہے جب جنگ ہوئی تھی اور وہ پچھاڑا گیا تھا ، انہوں نے کہا: اے ابن زرقاء ! اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ تم زندہ ہو ، تو میں نے تم پر حملہ کر دینا تھا ، عبدالملک نے ان کے خلاف یہ بات یاد رکھی ، پھر جب عبدالملک خلیفہ بن گیا تو انہیں لایا گیا تو سیدنا ابوسعید انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میرے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کا خیال رکھنا ، عبدالملک بن مروان نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ) ” ان کے ( یعنی انصار کے ) اچھے افراد کی حفاظت کرنا اور برے لوگوں سے درگزر کرنا ۔ “ راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بنت یزید بن سکن بن عمرو بن حرام کے شوہر تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16502
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (306/22)»