حدیث نمبر: 16501
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ خَرَجَ مُتَلَفِّعًا فِي أَخْلَاقِ ثِيَابٍ عَلَيْهِ ، حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَسَمِعَ النَّاسُ بِهِ وَأَهْلُ السُّوقِ ، فَحَضَرُوا الْمَسْجِدَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، احْفَظُونِي فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ ; فَإِنَّهُ كَرِشِي الَّذِي آكُلُ فِيهَا ، وَعَيْبَتِي ، اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَزَيْدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَشْهَلِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

زید بن سعد اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع دی گئی کہ آپ عنقریب دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تو آپ گھر سے باہر تشریف لائے آپ نے کپڑا سر پر لپیٹا ہوا تھا ، یہاں تک کہ آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے ، لوگوں کو آپ کے بارے میں پتہ چلا اور بازار والوں کو پتہ چلا ، تو وہ سب مسجد میں آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! انصار کے اس قبیلے کے بارے میں میری حفاظت کرنا ، کیونکہ یہ میرے خاص قریبی ساتھی ہیں ، تم ان میں کے اچھے فرد کی اچھائی کو قبول کرنا اور ان کے برے فرد سے درگزر کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں ایک راوی زید بن سعد بن زید اشہلی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16501
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5425)»