مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأَنْصَارِ . باب: انصار کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا ، فَخَطَبَ فَقَالَ لِلْأَنْصَارِ : " أَلَمْ تَكُونُوا أَذِلَّاءَ فَأَعَزَّكُمُ اللَّهُ بِي ؟ أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي ؟ أَلَمْ تَكُونُوا خَائِفِينَ فَأَمِنَكُمُ اللَّهُ بِي ؟ أَلَا تَرُدُّونَ عَلَيَّ ؟ " . قَالُوا : أَيُّ شَيْءٍ نُجِيبُكَ ؟ قَالَ : " تَقُولُونَ : أَلَمْ يَطْرُدْكَ قَوْمُكَ فَآوَيْنَاكَ ؟ أَلَمْ يُكَذِّبْكَ قَوْمُكَ فَصَدَّقْنَاكَ ؟ " . يُعَدِّدُ عَلَيْهِمْ ، [قَالَ] : فَجَثَوْا عَلَى رُكَبِهِمْ وَقَالُوا : أَمْوَالُنَا وَأَنْفُسُنَا لَكَ . فَنَزَلَتْ : "قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى" . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَفِيهِ لِينٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات سنی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے انصار سے ارشاد فرمایا : ” کیا ایسا نہیں ہے ؟ کہ تم لوگ کمتر حیثیت کے مالک تھے تو اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں عزت سے نوازا ، کیا ایسا نہیں ہے ؟ کہ تم لوگ گمراہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے تمہیں ہدایت نصیب کی ، کیا ایسا نہیں ہے ؟ کہ تم لوگ خوف کا شکار تھے تو اللہ تعالی نے میری وجہ سے تمہیں امان عطا کی ، تم لوگ مجھے جواب نہیں دو گے ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم آپ کو کیا جواب دیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ مجھے یہ جواب دو کہ کیا آپ کی قوم نے آپ کو چھوڑ نہیں دیا تھا ؟ تو ہم نے آپ کو پناہ دی ، کیا آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلا نہیں دیا تھا ؟ تو ہم نے آپ کی تصدیق کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد باتیں شمار کروائیں ، تو وہ لوگ اپنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور انہوں نے عرض کی : ہمارے اموال اور ہماری جانیں آپ کی ملکیت ہیں ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” تم یہ فرما دو ! کہ میں اس بارے میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ہوں ، البتہ رشتے داری کے حوالے سے محبت کا حکم مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن سعید بن بشیر کے حوالے سے نقل کی ہے اس میں کمزوری پائی جاتی ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔