حدیث نمبر: 16485
وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ عَيْبَةً ، وَعَيْبَتِي هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَ الْأَنْصَارُ شِعْبًا ، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ، الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ ، فَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا فَلْيُحْسِنْ إِلَى مُحْسِنِهِمْ ، وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہر نبی کا ایک قریبی گروہ ہوتا ہے اور میرا قریبی گروہ ، انصار کا یہ گروہ ہے ، اگر ہجرت نہ ہوتی ، تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا ، اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں ، تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا ، انصار جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہیں اور لوگ اوپر اوڑھنے والا لباس ہیں ، جو شخص لوگوں کے کسی بھی معاملے کا نگران بنے ، اسے انصار کے اچھے فرد کے ساتھ اچھائی کرنی چاہیے اور ان کے برے فرد سے درگزر کرنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16485
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2800)»