مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأَنْصَارِ . باب: انصار کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِأَصْحَابِهِ : أَمَا وَاللَّهِ ، لَقَدْ كُنْتُ أُحَدِّثُكُمُ أَنْ لَوِ اسْتَقَامَتِ الْأُمُورُ لَقَدْ آثَرَ عَلَيْكُمْ . قَالَ : فَرَدُّوا عَلَيْهِ رَدًّا عَنِيفًا . قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ أَشْيَاءَ لَا أَحْفَظُهَا ، قَالُوا : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَكُنْتُمْ لَا تَرْكَبُونَ الْخَيْلَ " . قَالَ : فَكُلَّمَا قَالَ لَهُمْ شَيْئًا قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : فَلَمَّا رَآهُمْ لَا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ . قُلْتُ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ : " الْأَنْصَارُ كَرِشِي ، وَأَهْلُ بَيْتِي ، وَعَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا ، فَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ ، وَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ : ِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَنَا أَنَّا سَنَرَى بَعْدَهُ أَثَرَةً . قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَمَا أَمَرَكُمْ ؟ قُلْتُ : أَمَرَنَا أَنْ نَصْبِرَ قَالَ : فَاصْبِرُوا إِذًا . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اللہ کی قسم ! میں تم لوگوں کو کہا: کرتا تھا کہ جب معاملات ٹھیک ہو جائیں گے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ساتھ ترجیحی سلوک کریں گے ، راوی کہتے ہیں : تو ان لوگوں نے اس کو سختی سے منع کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ ان کے پاس تشریف لائے اور آپ نے انہیں مختلف باتیں ارشاد فرمائیں ، جو مجھے یاد نہیں رہیں ، تو لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو تم لوگ پہلے گھوڑوں پر سواری نہیں کیا کرتے تھے ؟ جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے کوئی بات فرماتے تھے تو وہ یہی کہتے تھے : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا کہ وہ آپ کو کوئی جواب نہیں دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں : انصار میرے رازدار ( یا انتہائی قریبی ) ہیں ، میرے اہل بیت ہیں اور میری پناہ گاہ ہیں ، جس کی ” میں “ پناہ میں آیا ، تو تم اُن کے برے لوگوں سے درگزر کرو اور ان کی اچھائی قبول کرو ۔ “ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حدیث بیان کی تھی کہ ہم عنقریب ترجیحی سلوک دیکھیں گے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو کیا ہدایت کی ؟ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم صبر سے کام لیں ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر تم لوگ صبر سے کام لو ۔