مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأَنْصَارِ . باب: انصار کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : لَمَّا أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَعْطَى مِنْ تِلْكَ الْعَطَايَا فِي قُرَيْشٍ وَقَبَائِلِ الْعَرَبِ ، وَلَمْ يَكُنْ فِي الْأَنْصَارِ مِنْهَا شَيْءٌ ، وَجَدَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى كَثُرَتْ فِيهِمُ الْقَالَةُ ، حَتَّى قَالَ قَائِلُهُمْ : لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْمَهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ وَجَدُوا عَلَيْكَ فِي أَنْفُسِهِمْ لِمَا صَنَعْتَ فِي هَذَا الْفَيْءِ الَّذِي أَصَبْتَ ، قَسَّمْتَ فِي قَوْمِكَ ، وَأَعْطَيْتَ عَطَايَا عِظَامًا فِي قَبَائِلِ الْعَرَبِ ، وَلَمْ يَكُنْ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ . قَالَ : " فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ ذَلِكَ يَا سَعْدُ ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَنَا إِلَّا امْرُؤٌ مِنْ قَوْمِي ، وَمَا أَنَا مِنْ ذَلِكَ . قَالَ : " فَاجْمَعْ لِي قَوْمَكَ فِي هَذِهِ الْحَظِيرَةِ " . قَالَ [ فَخَرَجَ سَعْدٌ فَجَمَعَ النَّاسُ فِي تِلْكَ الْحَظِيرَةِ ] قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فَتَرَكَهُمْ ، [ فَدَخَلُوا ] وَجَاءَ آخَرُونَ فَرَدَّهُمْ ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا أَتَاهُ سَعْدٌ فَقَالَ : قَدِ اجْتَمَعَ لَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَثْنَى عَلَيْهِ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، مَا قَالَةٌ بَلَغَتْنِي عَنْكُمْ ؟ وَوَجْدَةٌ وَجَدْتُمُوهَا فِي أَنْفُسِكُمْ ؟ أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ ، وَأَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ " . قَالُوا : بَلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ وَأَفْضَلُ ، قَالَ : " أَلَا تُجِيبُونِي يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ؟ " . قَالُوا : وَبِمَاذَا نُجِيبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ الْمَنُّ وَالْفَضْلُ ؟ قَالَ : " أَمَا وَاللَّهِ ، لَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ فَلَصَدَقْتُمْ وَلَصُدِّقْتُمْ ، أَتَيْتَنَا مُكَذَّبًا فَصَدَّقْنَاكَ ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ ، وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ ، وَعَائِلًا فَوَاسَيْنَاكَ . أَوَجَدْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، فِي لُعَاعَةٍ مِنَ الدُّنْيَا ؟ تَأَلَّفْتُ قَوْمًا لِيُسْلِمُوا ؟ وَوَكَلَتْكُمُ إِلَى إِسْلَامِكُمْ ، أَلَا تَرْضَوْنَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رِحَالِكُمْ ؟ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّهُ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ، اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْأَنْصَارَ ، وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ ، وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ " . قَالَ : فَبَكَى الْقَوْمُ حَتَّى أَخْضَلُوا لِحَاهُمْ ، وَقَالُوا : رَضِينَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسْمًا وَحَظًّا . ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَفَرَّقُوا . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو مختلف عطیات عطا کیے ، اور عربوں کے دیگر قبائل کو بھی دیے ، اور انصار کو ان میں سے کچھ بھی نہیں دیا ، تو انصار کو اس حوالے سے کچھ الجھن ہوئی ، یہاں تک کہ انہوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، ان میں سے کسی نے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات اپنی قوم سے ہو گئی ہے ، سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ انصار کے اس قبیلے کو آپ کے اس طرز عمل کے حوالے سے کچھ الجھن ہے جو آپ نے اس مال فئے کے بارے میں کیا ہے ، جو مال آپ کو حاصل ہوا ہے ، جسے آپ نے اپنی قوم میں تقسیم کر دیا ہے اور آپ نے عربوں کے مختلف قبائل کے لوگوں کو بڑے ، بڑے عطیات سے نوازا ہے ، لیکن انصار کے لوگوں کو کچھ بھی نہیں دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے سعد ! تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی اپنی قوم کا ایک فرد ہوں اور میں ان میں سے ایک ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی قوم کو میرے لئے کسی جگہ پر جمع کرو ، راوی کہتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے ، انہوں نے لوگوں کو ایک جگہ پر جمع کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب آئے انہوں نے ان لوگوں کو چھوڑ دیا ، پھر وہ لوگ اندر آئے ، پھر بعض اور لوگ آئے ، انہوں نے انہیں واپس کر دیا ، جب وہ لوگ اکٹھے ہو گئے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی : میں نے انصار کے قبیلے کے لوگوں کو آپ کے لئے اکٹھا کروا دیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، جو اُس کی شان کے لائق ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے انصار کے گروہ ! وہ بات کیا ہے ؟ جو تمہارے حوالے سے مجھ تک پہنچی ہے اور وہ الجھن کیا ہے جو تم اپنے من میں محسوس کر رہے ہو ؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ تم لوگ گمراہ تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت نصیب کی ، تم لوگ تنگ دست تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں خوشحال کر دیا ، تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے درمیان الفت پیدا کر دی ، ان لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! اللہ اور اس کے رسول کا احسان سب سے زیادہ اور فضل سب سے زیادہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! تم لوگ مجھے جواب کیوں نہیں دیتے ؟ ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ کو کیا جواب دیں ؟ جبکہ احسان اور فضل ، اللہ اور اس کے رسول کے لئے مخصوص ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تم چاہو تو یہ کہ سکتے ہو ، اور تم سچ بولو گے اور تمہاری بات کی تصدیق کی جائے گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایسی حالت میں آئے تھے کہ آپ کو جھٹلایا جا رہا تھا ، تو ہم نے آپ کی تصدیق کی ، آپ کو پرے کر دیا گیا تھا ، تو ہم نے آپ کی مدد کی ، آپ کو نکال دیا گیا تو ہم نے آپ کو پناہ دی ، آپ تنگی کا شکار تھے ، تو ہم نے آپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا ، اے انصار کے گروہ ! کیا تم اپنے من میں دنیا کے ساز و سامان کے حوالے سے الجھن رکھتے ہو ؟ میں نے اس کے حوالے سے کچھ لوگوں کی تالیف قلب کی ہے تاکہ وہ مسلمان ہو جائیں ، اور میں نے تم لوگوں کو تمہارے اسلام کے سپرد کر دیا ہے ، اے انصار کے گروہ ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ لوگ بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے جائیں گے اور تم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رہائشی جگہ پر واپس لے جاؤ ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ، اور اگر لوگ ایک گھاٹی میں چلیں گے تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا ، اے اللہ ! انصار پر رحم فرما ، انصار کے بچوں پر ، انصار کے بچوں کے بچوں پر رحم فرما ۔ “
راوی کہتے ہیں : تو حاضرین نے رونا شروع کر دیا ، یہاں تک کہ ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں ، انہوں نے عرض کی : ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم اور حصے سے راضی ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور وہ لوگ بھی ادھر اُدھر چلے گئے ۔