مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ قُرَيْشٍ . باب: قریش کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَفِي رِوَايَةٍ : " يَا عَائِشَةُ ، أَوَّلُ مَنْ يَهْلِكُ مِنَ النَّاسِ قَوْمُكِ " . قَالَ : قُلْتُ : - جَعَلَنِي اللَّهُ فَدَاكَ - أَبَنِي تَيْمٍ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ قُرَيْشٍ تَسْتَحْلِيُهُمُ الْمَنَايَا ، وَتَنَفَّسُ النَّاسُ عَنْهُمْ أَوَّلُ النَّاسِ هَلَاكًا " . قُلْتُ : فَمَا بَقَاءُ النَّاسِ بَعْدَهُمْ ؟ قَالَ : " هُمْ صُلْبُ النَّاسِ ، إِذَا هَلَكُوا هَلَكَ النَّاسُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِبَعْضِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِبَعْضِهِ أَيْضًا ، وَإِسْنَادُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى عِنْدَ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي بَقِيَّةِ الرِّوَايَاتِ مَقَالٌ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اے عائشہ ! لوگوں میں سب سے پہلے تمہاری قوم ہلاکت کا شکار ہو گی ، میں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے ، کیا بنو تیم ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ قریش کا یہ قبیلہ ، موت انہیں ختم کر دے گی اور لوگ انہیں مار دیں گے ، میں نے عرض کی : اس کے بعد لوگوں کی بقاء کیسے ہو گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ لوگ ( یعنی قریش ، دوسرے ) لوگوں کی پشت ہیں ، جب یہ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے تو باقی لوگ بھی ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں بھی اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور امام أحمد کی نقل کردہ پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور بقیہ روایات کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔