مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ قُرَيْشٍ . باب: قریش کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ قَوْمَكِ أَسْرَعُ أُمَّتِي بِي لَحَاقًا " . قَالَتْ : فَلَمَّا جَلَسَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ ، لَقَدْ دَخَلْتُ وَأَنْتَ تَقُولُ كَلَامًا ذَعَرَنِي . قَالَ : " وَمَا هُوَ ؟ " . قُلْتُ : تَزْعُمُ أَنَّ قَوْمِي أَسْرَعُ أُمَتِكَ بِكَ لَحَاقًا ، قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْتُ : وَمِمَّ ذَاكَ ؟ قَالَ : " تَسْتَحْلِيُهُمُ الْمَنَايَا ، وَتَنَفَّسُ عَلَيْهِمْ أُمَّتُهُمْ " . قَالَتْ : فَقُلْتُ : كَيْفَ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ - أَوْ عِنْدَ ذَلِكَ - ؟ قَالَ : " دُبًّا يَأْكُلُ أَشِدَّاؤُهُ ضِعَافَهُ ، حَتَّى تَقُومَ عَلَيْهِمُ السَّاعَةُ " . قَالَ : وَالدُّبَّا : الْجَنَادِبُ الَّتِي لَمْ تَنْبُتْ أَجْنِحَتُهَا . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! تمہاری قوم میری امت میں سے سب سے پہلے مجھ سے آ ملے گی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کر دے ، جب آپ اندر تشریف لائے تو آپ نے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی ، جس نے مجھے پریشان کر دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کی : آپ نے یہ فرمایا تھا کہ میری قوم آپ کی امت میں سے ، سب سے پہلے آپ سے جا ملے گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے عرض کی : اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ موت انہیں ختم کر دے گی اور ان کی امت انہیں مار دے گی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : اس کے بعد لوگوں کا کیا بنے گا ؟ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس وقت لوگوں کا کیا بنے گا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس طرح کیڑے مکوڑے ہوتے ہیں ، جو طاقتور ہوں ، وہ کمزوروں کو کھا جاتے ہیں ، یہاں تک کہ اُن لوگوں پر قیامت قائم ہو گی ۔ “ راوی کہتے ہیں : لفظ ” دباء “ کا مطلب وہ کیڑے ہوتے ہیں ، جن کے پر نہیں اُگتے ہیں ۔