مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ قُرَيْشٍ . باب: قریش کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ ، فَدَخَلَ شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ : انْظُرِ الشَّيْخَ ، فَأَقْعِدْهُ مَقْعَدًا صَالِحًا ; فَإِنَّ لِقُرَيْشٍ حَقًّا . فَقُلْتُ : أَيُّهَا الْأَمِيرُ ، أَلَا أُحَدِّثُكُ بِحَدِيثٍ بَلَغَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى . قُلْتُ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ " . قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! مَا أَحْسَنَ هَذَا ، مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا ؟ قَالَ قُلْتُ : حَدَّثَنِيهِ رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : قَالَ أَبِي : يَا بُنَيَّ ، إِنْ وَلَيْتَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا فَأَكْرِمْ قُرَيْشًا ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤عبیداللہ بن عمر بن موسیٰ بیان کرتے ہیں : میں سلیمان بن علی کے پاس موجود تھا ، اسی دوران قریش سے تعلق رکھنے والا ایک بزرگ اندر آیا ، سلیمان نے کہا: اس بزرگ کو دیکھو ! پھر اس نے انہیں ایک اچھی جگہ پر بٹھایا اور کہا: قریش کا حق ہوتا ہے ، میں نے کہا: اے امیر ! کیا میں آپ کو ایک حدیث نہ سناؤں ؟ جو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ملی ہے ، اس نے کہا: جی ہاں ! تو میں نے بتایا ، مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص قریش کی توہین کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے ذلت کا شکار کرے گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : اس نے کہا: سبحان اللہ ! یہ کتنی اچھی بات ہے ، تمہیں یہ حدیث کس نے بیان کی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: یہ حدیث مجھے ربیعہ بن عبدالرحمن نے سعید بن مسیب کے حوالے سے عمرو بن عثمان بن عفان کے حوالے سے نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میرے والد ( یعنی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ) نے مجھ سے کہا: اے میرے بیٹے ! اگر تم لوگوں کے معاملات میں سے کسی چیز کے نگران بنو ، تو قریش کا احترام کرنا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص قریش کی توہین کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے ذلت کا شکار کرے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔