حدیث نمبر: 16457
وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ الْفِهْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : وَذَكَرَ قُرَيْشًا فَقَالَ : " إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالًا أَرْبَعَةً : إِنَّهُمْ أَصْلَحُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ ، وَأَسْرَعُهُمْ إِفَاقَةً بَعْدَ مُصِيبَةٍ ، وَأَوْشَكُهُمْ كَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ ، وَأَمْنَعُهُمْ مِنْ ظُلْمِ الْمَلُوكِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رِشْدِينَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مستورد فہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” ان میں چار خصوصیات ہیں ، فتنہ کے وقت یہ باقی لوگوں سے زیادہ نیک ہوتے ہیں اور مصیبت کے بعد یہ لوگ جلدی سنبھل جاتے ہیں اور یہ پیچھے ہٹنے کے بعد پلٹ کر حملہ کرتے ہیں ، اور حکمرانوں کے ظلم کو سب سے زیادہ روکتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد أحمد بن محمد بن رشدین کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16457
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف