حدیث نمبر: 16451
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَدِّمُوا قُرَيْشًا وَلَا تُقَدِّمُوهَا ، وَتَعَلَّمُوا مِنْ قُرَيْشٍ وَلَا تُعَلِّمُوهَا وَلَوْلَا أَنْ تَبْطُرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا بِمَا لِخِيَارِهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قریش کو مقدم رکھو ، تم اُن سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو ، قریش سے علم حاصل کرو ، تم انہیں تعلیم دینے کی کوشش نہ کرو ، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش زیادہ خوش فہمی کا شکار ہو جائیں گے ، تو میں انہیں اس بارے میں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے بہترین لوگوں کے لئے کیا اجر و ثواب ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” علم قریش میں ہے اور امانت ” ازد “ ( قبیلے کے لوگوں ) میں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْعِلْمُ فِي قُرَيْشٍ ، وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”علم قریش میں ہے اور امانت داری ازد قبیلے میں ہے“ ۔
اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے المعجم الاوسط اور المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16451
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔