مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ قُرَيْشٍ . باب: قریش کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : أَقْحَمَتِ السَّنَةُ نَابِغَةَ بَنِي جَعْدَةَ ، فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ جَالِسٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَنْشَأَ يَقُولُ : ¤ حَكَيْتَ لَنَا الصِّدِّيقَ لَمَا وَلَيْتَنَا وَعُثْمَانَ وَالْفَارُوقَ فَارْتَاحَ مُعْدَمُ وَسَوَّيَتْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ فَاسَتَوَوْا ¤ فَعَادَ صَبَاحًا حَالِكُ اللَّيْلِ مُظْلِمُ أَتَاكَ أَبُو لَيْلَى تَحَوَّلَ بِهِ الدُّجَى ¤ دُجَى اللَّيْلِ جَوَابَ الْفَلَاةِ عَتَمْتُمْ لِتَجَبُرَ مِنْهُ جَانِبًا زَعْزَعَتْ بِهِ ¤ صُرُوفُ اللَّيَالِي وَالزَّمَانُ الْمُصَمْصِمُ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : إِلَيْكَ يَا أَبَا لَيْلَى ، فَإِنَّ الشِّعْرَ أَهْوَنُ وَسَائِلِكَ عِنْدَنَا ، أَمَّا صَفْوَةُ مَالِنَا فَلِآلِ الزُّبَيْرِ ، وَأَمَّا عُيُونُهُ فَإِنَّ بَنِي أَسَدٍ يَشْغَلُهَا عَنْكَ وَتَمِيمًا ، وَلَكِنْ لَكَ فِي مَالِ اللَّهِ حَقَّانِ : حَقٌّ لِرُؤْيَتِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَقٌّ لِشَرِكَتِكَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ فِي الْإِسْلَامِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَأُدْخِلُ دَارَ النَّعَمِ ، وَأَمَرَ لَهُ بِقَلَائِصَ سَبْعٍ ، وَحَمْلٍ وَخَيْلٍ ، وَأَوْقَرَ لَهُ الرِّكَابَ بُرًّا وَتَمْرًا ، فَجَعَلَ النَّابِغَةُ يَسْتَعْجِلُ فَيَأْكُلُ الْحَبَّ صَرْفًا ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : وَيْحَ أَبِي لَيْلَى لَقَدْ بَلَغَ بِهِ الْجَهْدُ ، فَقَالَ النَّابِغَةُ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا وَلِيَتْ قُرَيْشٌ فَعَدَلَتْ ، وَاسْتُرْحِمَتْ فَرَحِمَتْ ، وَعَاهَدَتْ فَوَفَتْ ، وَوَعَدَتْ فَأَنْجَزَتْ ، إِلَّا كُنْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ فِرَاطَ الْقَاصِفِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَرِجَالٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِمْ . ¤عبداللہ بن عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ” نابغہ “ بنو جعدہ کو قحط سالی نے لپیٹ میں لیا ، وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ مدینہ منورہ میں بیٹھے تھے ، تو انہوں نے یہ اشعار سنائے : ” جب آپ ہمارے والی ( یعنی حکمران ) بنے ، تو آپ نے ہمارے سامنے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے واقعات بیان کیے تو اس شخص کو راحت نصیب ہوئی جس کے پاس کچھ نہ ہو ، آپ نے لوگوں کے ساتھ ، حق کے مطابق برابری کا سلوک کیا ، تو وہ سیدھے ہو گئے اور تاریک رات صبح میں تبدیل ہو گئی ، ابولیلی آپ کے پاس آیا ہے ، جس کو تاریکیاں گھما رہی ہیں ، جو رات کی تاریکیاں ہیں ، وہ ویرانوں کو عبور کرنے والا مضبوط اونٹ ہے ، تاکہ آپ اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں ، راتوں کے تبدیل ہونے اور ظالم زمانے نے اس کو الگ کر دیا ہے ۔ “
تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے ابولیلی ! آپ اپنا دھیان کریں ، کیونکہ شعر کہنا زیادہ آسان ہے اور آپ جو پوچھ رہے ہیں وہ ہمارے پاس ہے ، جہاں تک ہمارے مال کی پاکیزگی کا تعلق ہے وہ آل زبیر کے لئے مخصوص ہے ، جہاں تک اس چشموں کا تعلق ہے ، تو بنو اسد نے آپ کے اور تمیم کے حوالے سے ان سے مشغول ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ کے مال میں آپ کے دو قسم کے حق ہیں ، ایک حق اس حوالے سے ہے کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہوئی ہے اور ایک حق وہ ہے جو باقی اہل اسلام کے ہمراہ آپ اسلام میں شراکت دار ہیں ، پھر انہوں نے ” نابغہ “ کے بارے میں حکم دیا ، انہیں نعمتوں والے گھر میں لے جایا گیا ، انہوں نے ان کے لئے سات اونٹنیاں اور سامان اور گھوڑے دیے اور آٹے اور کھجوروں کی سواریاں دیں ، تو ” نابغہ “ نے جلدی سے وصول کرنا شروع کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے ابولیلی ! تمہارا ستیاناس ہو ! اس طرح تو مشقت زیادہ ہو جائے گی ، تو سیدنا نابغہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قریش کو جب بھی والی بنایا جائے گا ، وہ عدل سے کام لیں گے اور جب بھی اُن سے رحم مانگا جائے گا ، تو وہ رحم سے کام لیں گے ، اور جب ان سے وعدہ لیا جائے گا تو وہ پورا کریں گے ، تو ایسی صورت میں ، میں اور دیگر انبیاء ہجوم میں اُن کے پیشواء ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور اس کے ایسے رجال ہیں ، جن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔