مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِّ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَالزَّجْرِ عَنْ سَبِّهِمْ . باب: صحابہ کرام کے بارے میں ، جو منقول ہے اور اُنہیں برا کہنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 16424
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَلَفْظُهُ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي " . وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ سَيْفُ بْنُ عُمَرَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَفِي إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَيْفٍ الْخَوَارِزْمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میرے اصحاب کو برا کہے ، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ، جو میرے اصحاب کو برا کہتا ہے ۔ “
امام بزار کی سند میں ایک راوی سیف بن عمر ہے اور وہ متروک ہے اور امام طبرانی کی دو اسناد میں ایک راوی عبداللہ بن سیف خوارزمی ہے اور وہ متروک ہے ۔