مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ وَحَقْنِهَا لِلدَّمِ . باب: نماز کی فضیلت اور اس کا جان کو محفوظ کرنا
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا أُصِيبَ عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ فِي بَصَرِهِ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي وَتَدْعُوَ لَنَا بِالْبَرَكَةِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَتَحَدَّثُوا بَيْنَهُمْ ، فَذَكَرُوا مَالِكَ بْنَ الدُّخْشُمِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَاكَ كَهْفُ الْمُنَافِقِينَ وَمَأْوَاهُمْ ، فَأَكْثَرُوا فِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْلَيْسَ يُصَلِّي ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَاةٌ لَا خَيْرَ فِيهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ " - مَرَّتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَامِرُ بْنُ يَسَافٍ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی بینائی کمزور ہو گئی ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا ، مجھے یہ بات پسند ہے کہ آپ میرے ہاں تشریف لائیں ، اور میرے گھر میں نماز ادا کریں ، اور میرے لئے برکت کی دعا کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ اصحاب سمیت تشریف لے گئے ، آپ ان کے ہاں گئے ، وہ لوگ آپس میں بات چیت کرتے رہے ، ان لوگوں نے مالک بن دخشم کا ذکر کیا ، تو ایک شخص بولا: یا رسول اللہ ! وہ منافقین کی پناہ گاہ اور ان کا ٹھکانہ ہے ، ان لوگوں کا اس کے ساتھ بڑا تعلق ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سلام نے ارشاد فرمایا : کیا وہ نماز ادا نہیں کرتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! وہ ایسی نماز ادا کرتا ہے ، جس میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عامر بن یساف ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔