مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ وَحَقْنِهَا لِلدَّمِ . باب: نماز کی فضیلت اور اس کا جان کو محفوظ کرنا
وَلِابْنِ عُمَرَ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ : أَنَّ الْحَجَّاجَ أَمَرَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بِقَتْلِ رَجُلٍ ، فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ : أَصْلَيْتَ الصُّبْحَ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : انْطَلِقْ ، فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ : مَا مَنَعَكَ مِنْ قَتْلِهِ ؟ فَقَالَ سَالِمٌ : حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ كَانَ فِي جِوَارِ اللَّهِ يَوْمَهُ " ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَ رَجُلًا قَدْ أَجَارَهُ اللَّهُ . فَقَالَ الْحَجَّاجُ لِابْنِ عُمَرَ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : نَعَمْ . ¤ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَانِيِّ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَلَهُ طَرِيقٌ أَطْوَلُ مِنْ هَذِهِ تَأْتِي فِي الْفِتَنِ . ¤امام طبرانی نے ، معجم کبیر اور معجم اوسط میں ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : حجاج نے ، سالم بن عبداللہ کو ایک شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا ، تو سالم نے اس شخص سے دریافت کیا : تم نے صبح کی نماز ادا کی ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سالم نے کہا: تم چلے جاؤ ! حجاج نے ان سے دریافت کیا : تم نے اسے قتل کیوں نہیں کیا ؟ تو سالم نے بتایا : میرے والد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کر لیتا ہے ، وہ دن بھر کے لئے اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے “ ۔ تو سالم نے کہا: میں نے اس بات کو ناپسند کیا ، کہ میں ایک ایسے شخص کو قتل کر دوں ، جسے اللہ تعالی پناہ دے چکا ہو ، حجاج نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! !
اس روایت کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، جسے امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے ، یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کی ایک اور سند بھی ہے ، جو اس سے زیادہ طویل ہے ، اور وہ فتنوں سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔