مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ . باب: احنف بن قیس کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ [ إِذْ لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ : أَلَا أُبَشِّرُكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : تَذْكُرْ ] إِذْ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَوْمِكَ مِنْ بَنِي سَعْدٍ أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَقُلْتُ : إِيهِ وَاللَّهِ ، مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا ، أَوْ لَا أَسْمَعُ إِلَّا حَسَنًا ، فَإِنِّي رَجَعْتُ وَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَقَالَتَكَ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَحْنَفِ " . قَالَ : فَمَا أَنَا لِشَيْءٍ أَرْجَى مِنِّي لَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤احنف بن قیس بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں ، بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا ، اسی دوران بنو سلیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مجھ سے ملا اور بولا: کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں ؟ میں نے کہا: جی ہاں ! اس نے کہا: تم یہ ذکر رہے تھے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری قوم بنو سعد کی طرف بھیجا کہ میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دوں ، تو میں نے کہا: جی ہاں ! اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف بھلائی کی بات کہی تھی ، یا میں نے صرف اچھی بات سنی تھی ، اگر میں واپس آ گیا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہاری بات کے بارے میں بتایا ، تو آپ نے فرمایا : اے اللہ ! احنف کی مغفرت کر دے ، سیدنا احنف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو مجھے اس ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ) سے زیادہ اور کسی چیز کے بارے میں امید نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔