حدیث نمبر: 16183
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : كَانَ زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَقِفُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ ، وَيَلْزَقُ ظَهْرَهُ إِلَى صَفْحَتِهَا ، وَيَقُولُ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، مَا [ أَجِدُ ] عَلَى الْأَرْضِ عَلَى دِينِ إِبْرَاهِيمَ غَيْرِي [ وَكَانَ تَرَكَ عِبَادَةَ الْأَوْثَانِ ، وَأَكْلَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ ] ، وَكَانَ يَفْدِي الْمَوْءُودَةَ أَنْ تُقْتَلَ ، وَقَالَ عَمْرُو [ بْنُ زَيْدِ ] بْنِ نُفَيْلٍ : ¤ عُزِلَتِ الْجِنُّ وَالْجَنَانُ عَنِّي كَذَلِكَ يَفْعَلُ الْجَلِدُ الصَّبُورُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیده اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : زید بن عمرو بن نفیل ، زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ کے پاس کھڑے ہوتے تھے ، وہ اپنی پشت خانہ کعبہ کے ساتھ لگا دیتے تھے اور یہ کہتے تھے : اے قریش کے گروہ ! مجھے اپنے علاوہ روئے زمین پر دین ابراہیم کی پیروی کرنے والا اور کوئی فرد نہیں ملتا ، راوی کہتے ہیں : انہوں نے بتوں کی عبادت ترک کر دی تھی اور بتوں کے پاس جو جانور ذبح ہوتے تھے ، انہیں کھانا ترک کر دیا تھا ، جس بچی کو زندہ گاڑا جاتا تھا ، وہ فدیہ دے کر اسے قتل سے بچا لیتے تھے ، عمرو بن زید بن نفیل نے یہ اشعار کہے ہیں : ” میں نے جن اور جنان کو اپنے سے الگ کر دیا ، مضبوط اور صبر کرنے والا فرد ایسا ہی کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16183
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (82/24)»