حدیث نمبر: 16182
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا حَارًّا مِنْ أَيَّامِ مَكَّةَ وَهُوَ مُرْدِفِي إِلَى نُصُبٍ مِنَ الْأَنْصَابِ ، وَقَدْ ذَبَحْنَا لَهُ شَاةً فَأَنْضَجْنَاهَا . قَالَ : فَلَقِيَهُ زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، فَحَيَّا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ بِتَحِيَّةِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا زَيْدُ ، مَا لِي أَرَى قَوْمَكَ قَدْ شَنِفُوا لَكَ ؟ " . قَالَ : وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ ذَلِكَ لِغَيْرِ نَائِلَةٍ لِي مِنْهُمْ ، وَلَكِنِّي خَرَجْتُ أَبْتَغِي هَذَا الدِّينَ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَى أَحْبَارِ فَدَكٍ ، وَجَدْتُهُمْ يَعْبُدُونَ اللَّهَ وَيُشْرِكُونَ بِهِ . قَالَ : قُلْتُ : مَا هَذَا الدِّينُ الَّذِي أَبْتَغِي ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَى أَحْبَارِ الشَّامِ ، فَوَجَدْتُهُمْ يَعْبُدُونَ اللَّهَ وَيُشْرِكُونَ بِهِ ، قَلَّتُ : مَا هَذَا الدِّينُ الَّذِي أَبْتَغِي ، فَقَالَ شَيْخٌ مِنْهُمْ : إِنَّكَ لَتَسْأَلُ عَنْ دِينٍ مَا نَعْلَمُ أَحَدًا يَعْبُدُ اللَّهَ بِهِ إِلَّا شَيْخًا بِالْحِيرَةِ . قَالَ : فَخَرَجْتُ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ بَيْتِ اللَّهِ مَنْ أَهْلِ الشَّوْكِ وَالْقَرْظِ ، فَقَالَ : إِنَّ الدِّينَ الَّذِي تُطْلُبُ قَدْ ظَهَرَ بِبِلَادِكَ ، قَدْ بُعِثَ نَبِيٌّ قَدْ ظَهَرَ نَجْمُهُ ، وَجَمِيعُ مَنْ رَأَيْتَهُمْ فِي ضَلَالٍ ، فَلَمْ أُحِسَّ بِشَيْءٍ بَعْدُ يَا مُحَمَّدُ . قَالَ : وَقَرَّبَ إِلَيْهِ السُّفْرَةَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا يَا مُحَمَّدُ ؟ فَقَالَ : " شَاةٌ ذَبَحْنَاهَا لِنُصُبٍ مِنَ الْأَنْصَابِ " . فَقَالَ : مَا كُنْتُ لِآكُلَ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ . ¤ قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ : فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَيْتَ [ قَالَ : وَتَفَرَّقْنَا ] فَطَافَ بِهِ وَأَنَا مَعَهُ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ صَنَمَانِ مِنْ نُحَاسٍ ، أَحَدُهُمَا يُقَالُ لَهُ : يَسَافُ ، وَالْآخَرُ يُقَالُ لَهُ : نَائِلَةُ ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا طَافُوا تَمَسَّحُوا بِهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَمْسَحْهُمَا ; فَإِنَّهُمَا رِجْسٌ " . فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : لَأَمَسَّنَّهُمَا حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَقُولُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَسْتُهُمَا " يَا زَيْدُ ، أَلَمْ تُنْهَ ؟ " وَمَاتَ زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ يُبْعَثُ أُمَّةً وَحْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ : فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي خَرَجْتُ لَهُ ، فَقَالَ : كُلُّ مَنْ رَأَيْتَ فِي ضَلَالٍ ، وَإِنَّكَ لَتَسْأَلُ عَنْ دِينِ اللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ ، وَقَدْ خَرَجَ فِي أَرْضِكَ نَبِيٌّ أَوْ هُوَ خَارِجٌ ، فَارْجِعْ فَصَدِّقْهُ وَآمِنْ بِهِ . ¤ وَقَالَ أَيْضًا : فَقَالَ زَيْدٌ : إِنِّي لَا آكُلُ شَيْئًا ذُبِحَ لِغَيْرِ اللَّهِ . ¤ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ، وَالْبَزَّارِ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ ، رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک گرم دن میں ، مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر نکلا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا ، ہم ایک بت کی طرف گئے ، وہاں ہم نے ایک بکری ذبح کی اور پھر اسے پکایا ، راوی کہتے ہیں : زید بن عمرو بن نفیل کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، ان دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق سلام دعا کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے زید ! کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ کی قوم آپ سے ناپسندیدگی کے جذبات رکھتی ہے ، تو زید نے کہا: اللہ کی قسم ! اے محمد ! میں نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی ہے ، بلکہ میں دین حق کی تلاش میں نکلا تھا ، یہاں تک کہ میں فدک کے یہودی علماء کے پاس آیا ، تو میں نے ان لوگوں کو پایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور کسی کو اس کا شریک بھی قرار دیتے ہیں ، میں نے کہا: یہ دین کیا ہے ؟ جس کی تلاش میں نکلا ہوں ، پھر میں نکلا ، یہاں تک کہ میں شام کے علماء کے پاس آیا ، میں نے انہیں پایا کہ وہ اللہ کی عبادت بھی کرتے ہیں اور کسی کو اس کا شریک بھی ٹھہراتے ہیں ، میں نے کہا: یہ وہ دین نہیں ہے ، جس کی میں تلاش میں ہوں ، تو ان میں سے ایک بوڑھے نے کہا: تم جس دین کے بارے میں دریافت کر رہے ہو ، اس کے مطابق اللہ کی عبادت کرنے والا ہمارے علم کے مطابق صرف ایک شخص ہے ، جو حیرہ میں ہے ، میں وہاں سے نکلا اور اس شخص کے پاس آیا ، جب اس نے مجھے دیکھا ، تو اس نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے کہا: بیت اللہ کے پاس رہنے والوں سے ہے ، کانٹوں اور چمڑے میں رہنے والوں سے ہے ، تو اس نے کہا: وہ دین جو تم تلاش کر رہے ہو ، تمہارے علاقے میں ظاہر ہو جائے گا ، ایک نبی مبعوث ہوں گے ، جن کا ستارہ ظاہر ہو گا اور تم نے جتنے بھی لوگوں کو دیکھا ہے وہ سب گمراہ ہیں ، اے محمد ! اس کے بعد میں نے کوئی چیز محسوس نہیں کی ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کی چیز اس کے سامنے کی ، اس نے دریافت کیا : اے محمد ! یہ کیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا : یہ ایک بکری ہے ، جسے ہم نے استھان پر ذبح کیا تھا ، تو اس نے کہا: میں ایسے جانور کا گوشت نہیں کھاتا ، جس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ۔
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس آئے ، ہم ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھ ، میں نے بیت اللہ کا طواف کیا ، صفا و مروہ کا چکر لگایا ، اس وقت صفا اور مروہ کے پاس پیتل کے بنے ہوئے دو بت تھے ، اُن میں سے ایک کا نام یساف تھا اور دوسرے کا نام نائلہ تھا ، مشرکین جب چکر لگاتے تھے ، تو ان دونوں پر ہاتھ پھیرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان دونوں پر ہاتھ نہ پھیرنا ، کیونکہ یہ دونوں ناپاک ہیں ، میں نے دل میں سوچا کہ میں ان دونوں پر ضرورت ہاتھ لگاؤں گا تاکہ میں اس بات کا جائزہ لوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتے ہیں ؟ میں نے ان دونوں پر ہاتھ پھیر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے زید ! کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا ؟
پھر زید بن عمرو کا انتقال ہو گیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے ایک امت کے طور پر زندہ کیا جائے گا ۔

یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : زید بن عمرو کہتے ہیں : میں نے اس راہب کو اس چیز کے بارے میں بتایا جس مقصد کے لئے میں نکلا تھا ، تو اس نے مجھ سے کہا: تم نے جتنے لوگوں کو دیکھا ہے ، وہ سب گمراہ ہیں ، تم اللہ کے دین اور فرشتوں کے دین کے بارے میں دریافت کر رہے ہو ، تمہارے علاقے میں ایک نبی کا ظہور ہو گا ، یا ظہور ہو چکا ہو گا ، تم واپس جاؤ اور ان کی تصدیق کرنا اور ان پر ایمان لانا ۔
اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : زید نے کہا: میں ایسی کوئی چیز نہیں کھاؤں گا ، جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ۔
امام ابویعلیٰ اور امام بزار کے رجال اور طبرانی کی اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16182
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2755) اخرجه أبو يعلى فى المسند (7212) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4663)»