حدیث نمبر: 16173
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : كَانَ لِي عَلَى رَجُلٍ مِنْ كِنْدَةَ دَيْنٌ ، وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَيْهِ بِالْأَسْحَارِ ، فَأَدْرَكَتْنِي صَلَاةُ الْفَجْرِ فِي مَسْجِدِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، فَصَلَّيْتُ ، فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ وَضَعَ قُدَّامَ كُلِّ إِنْسَانٍ حُلَّةً وَنَعْلًا وَخَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ ، قُلْتُ : إِنِّي لَسْتُ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ [ قَالَ : وَإِنْ كُنْتَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ ] ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : قَدِمَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ مِنْ مَكَّةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے کندہ سے تعلق رکھنے والے شخص سے قرض لینا تھا ، میں سحری کے وقت اس کے پاس آتا جاتا رہا ، ایک دن میں فجر کی نماز کے بعد سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کی مسجد میں موجود تھا ، میں نے نماز ادا کی ، جب امام نے سلام پھیرا ، تو سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے مسجد میں ہر شخص کے آگے ایک لباس اور ایک جوتا اور پانچ سو درہم رکھوائے ، میں نے کہا: میں اس مسجد کے باقاعدہ آنے والوں میں سے نہیں ہوں ، تو انہوں نے فرمایا : اگرچہ تم مسجد کے باقاعدہ آنے والوں میں سے نہیں ہو ( پھر بھی اسے قبول کرو ) تو میں نے کہا: یہ کون صاحب ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدنا اشعت بن قیس رضی اللہ عنہ ہیں ، جو مکہ سے آئے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابواسرائیل ملائی ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16173
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (650)»