حدیث نمبر: 16172
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ - يَعْنِي الْبَيْكَنْدِيَّ - : إِنَّمَا نَعُدُّ الشَّرَفَ مَا كَانَ قُبَيْلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَهْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاتَّصَلَ فِي الْإِسْلَامِ فَبَيَّتَ الْيُمْنُ الَّذِي فِي الصِّفَةِ عِبْدَ الْعِزِّ فِي كِنْدَةِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، وَفَارِسِهَا مِنْ زُبَيْدٍ : عَمْرِو بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، وَشَاعِرِهَا : امْرِئِ الْقَيْسِ مِنْ كِنْدَةَ ، لَا يُخْتَلَفُ فِي هَذَا . ¤ قُلْتُ : مَا أَدْرِي مَعْنَاهُ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن سلام بیکندی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے کچھ پہلے سے لے کر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس تک جس چیز کو شرف سمجھا جاتا تھا اور یہ چیز اسلام میں بھی شامل ہوئی ، وہ یمن کا ایک گھرانہ ہے ، جو صفہ میں کندہ میں تھا ، سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ اور ان کے شہوار زبید سے تعلق رکھتے تھے ، عمرو بن معدیکرب ان کا شاعر تھا ، امرءالقیس کندہ سے تعلق رکھتا تھا ، اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) مجھے نہیں پتہ کہ اس کا مفہوم کیا ہے ؟

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16172
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (652)»