حدیث نمبر: 16135
عَنْ أَبِي السَّوَّارِ ، عَنْ خَالِهِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُنَاسٌ يَتْبَعُونَهُ قَالَ : فَاتَّبَعْتُهُ مَعَهُمْ قَالَ : فَفَجَئَنِي الْقَوْمُ يَسْعَوْنَ قَالَ : وَأَبْقَى الْقَوْمَ . قَالَ : فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَنِي ضَرْبَةً إِمَّا بِعَسِيبٍ ، أَوْ قَضِيبٍ ، أَوْ سِوَاكٍ ، أَوْ شَيْءٍ كَانَ مَعَهُ . ¤ قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا أَوْجَعَنِي . قَالَ : فَبِتُّ بِلَيْلَةٍ ، أَوْ قَالَ : قُلْتُ : مَا ضَرَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا لِشَيْءٍ عَلِمَهُ اللَّهُ فِيَّ . قَالَ : وَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي أَنْ آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَصْبَحْتُ . ¤ قَالَ : وَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ : إِنَّكَ رَاعٍ ; فَلَا تَكْسِرْ قَرْنَ رَعِيَّتَكَ . ¤ فَلَمَّا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ - أَوْ قَالَ : أَصْبَحْنَا - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ إِنَّ نَاسًا يَتْبَعُونِي ، وَإِنِّي لَا يُعْجِبُنِي أَنْ يَتْبَعُونِي . اللَّهُمَّ فَمَنْ ضَرَبْتُ أَوْ سَبَبْتُ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً وَأَجْرًا " . - أَوْ قَالَ : - " مَغْفِرَةً وَرَحْمَةً " - أَوْ كَمَا قَالَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسوار رضی اللہ عنہ اپنے ماموں کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کچھ لوگ آپ کے پیچھے جا رہے تھے ، ان کے ساتھ میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لیا ، پھر لوگ دوڑتے ہوئے آئے ، تو میں پیچھے ہٹ گیا راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے مجھے ضرب لگائی ، جو کسی چھڑی کے ذریعے تھے ، یا مسواک کے ذریعے تھے ، یا شاید کسی اور چیز کے ذریعے تھے ، جو آپ کے پاس موجود تھی ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تکلیف نہیں پہنچائی ، میں نے وہیں رات گزاری ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صرف اس وجہ سے مارا تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے بارے میں علم عطا کیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دل میں سوچا کہ صبح میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوؤں گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہوں نے کہا: آپ دیکھ بھال کرنے والے ہیں ، تو آپ اپنی رعایا کے سینگ نہ توڑیں ، جب ہم نے صبح کی نماز ادا کر لی ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) جب صبح ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! کچھ لوگ میرے پیچھے آئے تھے اور مجھے ان کا اپنے پیچھے آنا پسند نہیں آیا تھا ، تو اے اللہ ! جسے میں نے ضرب لگائی ہو یا جسے میں نے برا کہا: ہو ، تو اُس چیز کو اس شخص کے حق میں کفارے اور اجر کا باعث بنا دے “ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) بخشش اور رحمت کا باعث بنا دے “ ۔ یا جس طرح بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16135
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (294/5)»