حدیث نمبر: 16134
عَنْ زِيَادَةَ ، عَنْ جَدِّهِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّاهُ مُطَاعًا ، وَقَالَ لَهُ : " يَا مُطَاعُ ، أَنْتَ مُطَاعٌ فِي قَوْمِكَ " . وَحَمَلَهُ عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ ، وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ وَقَالَ لَهُ : " يَا مُطَاعُ ، امْضِ إِلَى أَصْحَابِكَ ، فَمَنْ دَخَلَ تَحْتَ رَايَتِي هَذِهِ فَقَدْ أَمِنَ مِنَ الْعَذَابِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

زیادہ نے اپنے دادا سیدنا مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ” مطاع“ ( یعنی پیشوا ) کا نام دیا تھا ، آپ نے ان سے فرمایا تھا : اے مطاع ! تم اپنی قوم میں ” مطاع “ ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک ابلق گھوڑا دیا تھا اور انہیں جھنڈا دیا تھا اور ان سے فرمایا تھا : اے مطاع ! تم اپنے ساتھیوں کے پاس جاؤ ، جو شخص میرے اس جھنڈے کے نیچے داخل ہو گا ، وہ عذاب سے محفوظ ہو جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16134
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (680)»