حدیث نمبر: 16128
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِرْبَهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تَبْعَثُنَا وَلَا لَنَا زَادٌ ، وَلَا لَنَا طَعَامٌ ، وَلَا عِلْمَ لَنَا بِالطَّرِيقِ ! فَقَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَمُرُّونَ بِرَجُلٍ صَبِيحِ الْوَجْهِ ، يُطْعِمُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ وَيَسْقِيكُمْ مِنَ الشَّرَابِ ، وَيَدُلُّكُمْ عَلَى الطَّرِيقِ ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَلَمَّا نَزَلَ الْقَوْمُ عَلَيَّ جَمَلٍ يُشِرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، وَيَنْظُرُونَ إِلَيَّ قَالُوا : أَبْشِرْ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ; فَإِنَّا نَعْرِفُ فِيكَ نَعْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَأَخْبَرُونِي بِمَا قَالَ لَهُمْ ، فَأَطْعَمْتُهُمْ وَسَقَيْتُهُمْ وَزَوَّدْتُهُمْ ، وَخَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى دَلَلْتُهُمْ عَلَى الطَّرِيقِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي وَأَوْصَيْتُهُمْ بِإِبِلِي ، ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : مَا الَّذِي تَدْعُو إِلَيْهِ ؟ فَقَالَ : " أَدْعُو إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ " . فَقُلْتُ : إِذَا أَجَبْنَاكَ إِلَى هَذَا فَنَحْنُ آمِنُونَ عَلَى أَهْلِنَا وَدِمَائِنَا وَأَمْوَالِنَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . فَأَسْلَمْتُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي فَأَعْلَمْتُهُمْ بِإِسْلَامِي ، فَأَسْلَمَ عَلَى يَدَيْ بَشَرٌ كَثِيرٌ مِنْهُمْ ، ثُمَّ هَاجَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ لِي : " يَا عَمْرُو ، هَلْ لَكَ أَنْ أُرِيَكَ آيَةَ الْجَنَّةِ ، يَأْكُلُ الطَّعَامَ ، وَيَشْرَبُ الشَّرَابَ ، وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ؟ " . قُلْتُ : بَلَى ، بِأَبِي أَنْتَ . قَالَ : " هَذَا وَقَوْمُهُ " . وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَقَالَ لِي : " يَا عَمْرُو ، هَلْ لَكَ أَنْ أُرِيَكَ آيَةَ النَّارِ ، يَأْكُلُ الطَّعَامَ ، وَيَشْرَبُ الشَّرَابَ ، وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ؟ " . قُلْتُ : بَلَى ، بِأَبِي أَنْتَ . قَالَ : " هَذَا وَقَوْمُهُ آيَةُ النَّارِ " . وَأَشَارَ إِلَى رَجُلٍ . ¤ فَلَمَّا وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ ، ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَرَرْتُ مِنْ آيَةِ النَّارِ إِلَى آيَةِ الْجَنَّةِ ، وَيَرَى بَنِي أُمَيَّةَ قَاتِلِي بَعْدَ هَذَا ؟ قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ : وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ فِي حَجَرٍ فِي جَوْفِ حَجَرٍ لَاسْتَخْرَجَنِي بَنُو أُمَيَّةَ حَتَّى يَقْتُلُونِي . حَدَّثَنِي بِهِ حَبِيبِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ رَأْسِي أَوَّلُ رَأْسٍ يُحْتَزُّ فِي الْإِسْلَامِ ، وَيُنْقَلُ مِنْ بَلَدٍ إِلَى بَلَدٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی ، اُن لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بھیج رہے ہیں ، ہمارے پاس زاد سفر بھی نہیں ہے اور ہمارے پاس کھانے کے لئے بھی کچھ نہیں ہے اور ہمیں راستے کا بھی پتہ نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ عنقریب ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرو گے ، جس کا چہرہ خوبصورت ہو گا ، وہ تمہیں کھانا کھلائے گا ، مشروب پلائے گا اور راستے کے بارے میں تمہاری رہنمائی کرے گا ، اور وہ شخص اہل جنت میں سے ہو گا ، راوی کہتے ہیں : جب وہ لوگ میرے پاس آ کر ٹھہرے ، تو انہوں نے ایک دوسرے کی طرف اشارے کرنے شروع کیے ، میں نے کہا: تم ایک دوسرے کی طرف اشارے کر رہے ہو اور میری طرف دیکھ رہے ہو ؟ تو ان لوگوں نے کہا: تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آنے والی خوشخبری کو قبول کرو ، کیونکہ ہمیں تمہارے اندر وہ صفت پتہ چل گئی ہے ، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی تھی ، انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے جو ارشاد فرمایا تھا ، تو میں نے ان لوگوں کو کھانا کھلایا ، انہیں پانی پلایا ، انہیں زاد سفر دیا ، پھر میں ان لوگوں کے ساتھ نکلا اور انہیں راستے کے بارے میں بتایا ، پھر میں اپنے گھر واپس آیا ، اپنے اونٹوں کے بارے میں اپنے گھر والوں کو تلقین کی پھر میں نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دینے کی طرف دعوت دینا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں ، اور نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے اور بیت اللہ کا حج کرنے اور رمضان کے روزے رکھنے ( کی طرف دعوت دیتا ہوں ) میں نے عرض کی : ایسی صورت میں ، ہم آپ کی اس دعوت کو قبول کرتے ہیں ، ہم اپنے اہل اور اپنی جانوں اور اموال سمیت ایمان لاتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، تو میں نے اسلام قبول کر لیا ، پھر میں واپس اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آیا اور انہیں اپنے اسلام قبول کرنے کے بارے میں بتایا ، تو میرے ہاتھ پر بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ، پھر میں ہجرت کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔
ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ نے مجھ سے فرمایا : اے عمرو ! کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ میں تمہیں جنت کی نشانی دکھاؤں ؟ جو کھانا کھاتا ہے اور مشروب پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے ، میں نے عرض کی : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اور اس کی قوم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، آپ نے مجھ سے فرمایا : اے عمرو ! کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ میں تمہیں جہنم کی نشانی دکھاؤں ، جو کھانا کھاتا ہے اور مشروب پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! میرے والد آپ پر قربان ہوں ، آپ نے فرمایا : یہ اور اس کی قوم جہنم کی نشانی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
راوی کہتے ہیں : جب فتنہ واقع ہوا ، تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد آ گیا ، تو میں ، جہنم کی نشانی سے بھاگ کر ، جنت کی نشانی کی طرف آ گیا ، اُن کا یہ کہنا تھا کہ اس کے بعد بنوامیہ مجھے قتل کر دیں گے ، میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر میں کسی پتھر کے اندر موجود ہوا تو وہ مجھے تلاش کر کے قتل کر دیں گے ، یہ بات میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتائی ہے کہ میرا سر وہ پہلا سر ہو گا ، جو اسلام میں کاٹا جائے گا اور اسے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالملک مسعودی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16128
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف