مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَى رَأْسِي ، فَقَالَ : " يَعِيشُ هَذَا الْغُلَامُ قَرْنًا " . فَعَاشَ مِائَةَ سَنَةٍ . ¤ وَكَانَ فِي وَجْهِهِ ثُؤْلُولٌ ، فَقَالَ : " لَا يَمُوتُ حَتَّى يَذْهَبَ الثُّؤْلُولُ مِنْ وَجْهِهِ " . فَلَمْ يَمُتْ حَتَّى ذَهَبَ الثُّؤْلُولُ مِنْ وَجْهِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارِ الثُّؤْلُولِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِيُدْرِكَنَّ قَرْنًا " . ¤ وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور ارشاد فرمایا : یہ لڑکا ایک صدی تک زندہ رہے گا ، راوی کہتے ہیں : تو وہ ایک سو سال تک زندہ رہے تھے ۔ اُن کے چہرے میں دانے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اس کے چہرے سے دانے ختم نہیں ہو جائیں گے ، راوی کہتے ہیں : تو ان کا انتقال اس وقت تک نہیں ہوا ، جب تک ان کے چہرے سے دانے رخصت نہیں ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ صرف دانوں والے حصے کے ہمراہ نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ایک صدی تک پہنچے گا ۔ “ امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ، صرف حسن بن ایوب حضرمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔