حدیث نمبر: 16086
عَنْ هَانِئٍ أَبِي مَالِكٍ : أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْيَمَنِ ، فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَأَسْلَمَ ، فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ ، وَأَنْزَلَهُ عَلَى يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، فَلَمَّا جَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ الْجَيْشَ إِلَى الشَّامِ خَرَجَ مَعَهُمْ وَلَمْ يَرْجِعْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْعَلَائِيَّ قَالَ : الظَّاهِرُ أَنَّ [ يَزِيدَ بْنَ ] عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَدِّهِ أَبِي مَالِكٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بانی ابومالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ یمن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو ، انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لئے برکت کی دعا کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یزید بن ابوسفیان کے ہاں ٹھہرایا ، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف لشکر روانہ کیا ، تو یہ بھی اُن لوگوں کے ساتھ تشریف لے گئے تھے ، لیکن یہ واپس نہیں آئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید بن ابومالک ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ علائی کا معاملہ مختلف ہے وہ یہ کہتے ہیں : بظاہر یہ لگتا ہے : یزید بن عبدالرحمن نامی راوی نے اپنے دادا سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16086
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2513)»