مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَبِي قِرْصَافَةَ وَأَهْلِ بَيْتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - . باب: حضرت ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 16077
وَعَنْ عَزَّةَ بِنْتِ عِيَاضِ بْنِ أَبِي قِرْصَافَةَ قَالَ : أَسَرَتِ الرُّومُ ابْنًا لِأَبِي قِرْصَافَةَ ، فَكَانَ أَبُو قِرْصَافَةَ إِذَا حَضَرَ وَقْتُ كُلِّ صَلَاةٍ صَعِدَ سُورَ عَسْقَلَانَ ، وَنَادَى : يَا فُلَانُ الصَّلَاةَ ، فَيَسْمَعُهُ وَهُوَ فِي بَلَدِ الرُّومِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیده عزه بنت عیاض بن ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : رومیوں نے سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے کو قیدی بنا لیا تو سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ ہر نماز کے وقت عسقلان شہر کی دیواروں پر کھڑے ہو کر بلند آواز میں پکار کر یہ کہتے تھے : اے فلاں ! نماز کا وقت ہو گیا ہے ، تو اُن کا بیٹا ان کی آواز سن لیتا تھا ، حالانکہ وہ رومیوں کے شہر میں موجود ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔