حدیث نمبر: 16076
عَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَانَ بَدْءُ إِسْلَامِي أَنِّي كُنْتُ يَتِيمًا بَيْنَ أُمِّي وَخَالَتِي ، وَكَانَ أَكْثَرُ مَيْلِي إِلَى خَالَتِي ، وَكُنْتُ أَرْعَى شُوَيْهَاتٍ لِي ، فَكَانَتْ خَالَتِي كَثِيرًا مَا تَقُولُ لِي : يَا بُنَيَّ ، لَا تَمُرَّ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ - تَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُغْوِيَكَ وَيُضِلَّكَ ، فَكُنْتُ أَخْرُجُ حَتَّى آتِيَ الْمَرْعَى ، وَأَتْرُكَ شُوَيْهَاتِي وَآتِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا أَزَالُ أَسْمَعُ مِنْهُ ، ثُمَّ أُرَوِّحُ غَنَمِي ضُمَّرًا يَابِسَاتِ الضُّرُوعِ . وَقَالَتْ لِي خَالَتِي : مَا لِغَنَمِكَ يَابِسَاتِ الضُّرُوعِ ؟ قُلْتُ : مَا أَدْرِي . ¤ ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ الْيَوْمَ الثَّانِيَ ، فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، هَاجِرُوا وَتَمَسَّكُوا بِالْإِسْلَامِ ؛ فَإِنَّ الْهِجْرَةَ لَا تَنْقَطِعُ مَا دَامَ الْجِهَادُ " . ثُمَّ إِنِّي رُحْتُ بِغَنَمِي كَمَا رُحْتُ فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ . ¤ ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ ، فَلَمْ أَزَلْ عِنْدَهُ أَسْمَعُ مِنْهُ حَتَّى أَسْلَمْتُ وَبَايَعْتُهُ وَصَافَحْتُهُ ، وَشَكَوْتُ إِلَيْهِ أَمْرَ خَالَتِي وَأَمْرَ غَنَمِي ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " جِئْنِي بِالشِّيَاهِ " . فَجِئْتُهُ بِهِنَّ ، فَمَسَحَ ظُهُورَهُنَّ وَضُرُوعَهُنَّ ، وَدَعَا فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ ، فَامْتَلَأْنَ شَحْمًا وَلَبَنًا ، فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَى خَالَتِي بِهِنَّ قَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، هَكَذَا فَارْعَ ، قُلْتُ : يَا خَالَةُ ، مَا رَعَيْتُ إِلَّا حَيْثُ أَرْعَى كُلَّ يَوْمٍ ، وَلَكِنْ أُخْبِرُكِ بِقِصَّتِي ، وَأَخْبَرْتُهَا بِالْقِصَّةِ وَإِتْيَانِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرْتُهَا بِسِيرَتِهِ وَبِكَلَامِهِ ، فَقَالَتْ [ لِي ] أُمِّي وَخَالَتِي : اذْهَبْ بِنَا إِلَيْهِ ، فَذَهَبْتُ أَنَا وَأُمِّي وَخَالَتِي فَأَسْلَمْنَ ، وَبَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ وَمَا ]صَافَحَهُنَّ . ¤ فَهَذَا مَا كَانَ مِنْ أَمْرِ إِسْلَامِ أَبِي قِرْصَافَةَ ، وَهِجْرَتِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ وَكَانَ أَبُو قِرْصَافَةَ يَسْكُنُ أَرْضَ تِهَامَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میرے اسلام کا آغاز یوں ہوا کہ میں یتیم بچہ تھا ، میں اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ رہتا تھا ، میں زیادہ تر اپنی خالہ کے ساتھ رہتا تھا ، اور میں کچھ بکریاں چرایا کرتا تھا ، میری خالہ اکثر مجھ سے یہ کہتی تھیں : کہ تم اُن صاحب کے پاس سے نہ گزرنا ، اُن کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، ورنہ وہ تمہیں گمراہ کر دیں گے اور تمہیں بھٹکا دیں گے ، راوی کہتے ہیں : میں نکلتا تھا یہاں تک کہ اپنی چراگاہ تک آتا تھا ، اپنی بکریاں وہاں چھوڑتا تھا اور پھر ( ایک مرتبہ ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا ، میں مسلسل آپ کی بات چیت سنتا رہا ، پھر میں شام کو اپنی بکریاں لے کر واپس آیا ، تو ان کے تھن خشک تھے ، میری خالہ نے مجھ سے کہا: کیا وجہ ہے تمہاری بکریوں کے تھن خشک کیوں ہیں ؟ میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم ، پھر میں دوسرے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ویسا ہی کیا ، جس طرح میں نے پہلے دن کیا تھا ، البتہ میں نے اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے لوگو ! ہجرت کرو اور اسلام کو مضبوطی سے تھام لو ، کیونکہ ہجرت اس وقت تک ختم نہیں ہو گی ، جب تک اسلام باقی ہے ۔ “
پھر میں شام کو اپنی بکریاں لے کر واپس گیا ، جس طرح میں پہلے دن واپس لے کر گیا تھا ، پھر میں تیسرے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی بات چیت سنتا رہا ، آپ کے پاس موجود رہا ، یہاں تک کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ، آپ کے دست اقدس پر بیعت کر لی ، میں نے آپ کے ساتھ مصافحہ کیا ، پھر میں نے اپنی خالہ کا معاملہ آپ کے سامنے شکایت کے طور پر ذکر کیا اور اپنی بکریوں کا معاملہ ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم وہ بکریاں میرے پاس لے کر آؤ ، میں انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پشت اور تھنوں پر ہاتھ پھیرا اور اُن میں برکت کی دعا کی ، تو وہ بکریاں چربی اور دودھ سے بھر گئیں ، جب میں اُن بکریوں کو لے کر اپنی خالہ کے پاس آیا ، تو انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے ! اسی طرح تم ان کو چرایا کرو ، میں نے کہا: اے خالہ جان ! میں نے انہیں اسی طرح چرایا ہے جس طرح میں انہیں روزانہ چراتا ہوں ، لیکن اب میں آپ کو اپنا واقعہ بتاتا ہوں ، پھر میں نے انہیں پوری صورت حال بتائی اور یہ بتایا کہ کس طرح میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور گفتگو کے بارے میں انہیں بتایا ، تو میری ماں اور میری خالہ نے مجھ سے کہا: تم ہمیں بھی اُن کے پاس لے جاؤ ، تو میں ، میری والدہ اور میری خالہ گئے ، اُن خواتین نے اسلام قبول کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کیا ۔
راوی کہتے ہیں : تو یہ سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے اور اُن کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرنے کا معاملہ ہے ، سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ تہامہ کی سرزمین پر رہتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16076
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح