حدیث نمبر: 16070
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ ، مُنْصَرَفَهُ مِنَ الطَّائِفِ ، كَتَبَ بُجَيْرُ بْنُ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى إِلَى أَخِيهِ كَعْبِ بْنِ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى يُخْبِرُهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَتَلَ رَجُلًا بِمَكَّةَ مِمَّنْ كَانَ يَهْجُوهُ وَيُؤْذِيهِ ، وَأَنَّهُ بَقِيَ مِنْ شُعَرَاءِ قُرَيْشٍ ابْنُ الزِّبَعْرَى ، وَهُبَيْرَةُ بْنُ أَبِي وَهْبٍ قَدْ هَرَبُوا فِي كُلِّ وَجْهٍ ، فَإِنْ كَانَتْ لَكَ فِي نَفْسِكَ حَاجَةٌ فَفِرَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؛ فَإِنَّهُ لَا يَقْتُلُ أَحَدًا جَاءَهُ تَائِبًا ، وَإِنْ أَنْتَ لَمْ تَفْعَلْ فَانْجُ وَلَا نَجَا لَكَ ، وَقَدْ كَانَ كَعْبٌ قَالَ أَبْيَاتًا نَالَ فِيهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا بَلَغَ كَعْبًا الْكِتَابُ ضَاقَتْ بِهِ الْأَرْضُ وَأَشْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ ، وَأَرْجَفَ بِهِ مَنْ كَانَ حَاضِرُهُ مِنْ عَدُوِّهِ [ قَالُوا : هُوَ مَقْتُولٌ ] ، فَلَمَّا لَمْ يَجِدْ مِنْ شَيْءٍ بُدًّا قَالَ قَصِيدَتَهُ الَّتِي يَمْتَدِحُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِذِكْرِ خَوْفِهِ وَإِرْجَافِ الْوُشَاةِ بِهِ . ¤ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ ، فَنَزَلَ عَلَى رَجُلٍ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ مَعْرِفَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ - كَمَا ذُكِرَ لِي - فَغَدَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ ، فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ ، ثُمَّ أَشَارَ لَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُمْ إِلَيْهِ فَاسْتَأْمِنْهُ ، فَذُكِرَ لِي أَنَّهُ قَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَعْرِفُهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ كَعَّبَ بْنَ زُهَيْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْمِنَ مِنْكَ تَائِبًا مُسْلِمًا ؛ فَهَلْ أَنْتَ قَابِلٌ مِنْهُ إِنْ أَنَا جِئْتُكَ بِهِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا كَعْبُ بْنُ زُهَيْرٍ . ¤ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : فَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ : وَثَبَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي وَعَدُوَّ اللَّهِ أَضْرِبُ عُنُقَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعْهُ عَنْكَ ؛ فَإِنَّهُ قَدْ جَاءَ تَائِبًا نَازِعًا " . فَغَضِبَ عَلَى هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ لِمَا صَنَعَ بِهِ صَاحِبُهُمْ ؛ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ إِلَّا بِخَيْرٍ ، فَقَالَ قَصِيدَتَهُ الَّتِي قَالَهَا حِينَ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ مِمَّا قَالَ [ فِيهَا ] : ¤ تَمْشِي الْوُشَاةُ بِجَنْبَيْهَا وَقَوْلُهُمُ إِنَّكَ يَا ابْنَ أَبِي سُلْمَى لَمَقْتُولُ وَقَالَ كُلُّ صَدِيقٍ كُنْتُ آمُلُهُ ¤ لَا أُلْفِيَنَّكَ إِنِّي عَنْكَ مَشْغُولٌُ فَقُلْتُ : خَلُّوا سَبِيلِي لَا أَبَا لَكُمْ ¤ فَكُلُّ مَا قَدَّرَ الرَّحْمَنُ مَفْعُولُ كُلُّ ابْنِ أُنْثَى وَإِنْ طَالَتْ سَلَامَتُهُ ¤ يَوْمًا عَلَى آلَةٍ حَدْبَاءَ مَحْمُولُ أُنْبِئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَوْعَدَنِي ¤ وَالْعَفْوُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ مَأْمُولُ مَهْلًا هَدَاكَ الَّذِي أَعْطَاكَ نَافِلَةَ الْ ¤ فُرْقَانِ فِيهَا مَوَاعِيظُ وَتَفْصِيلُ لَا تَأْخُذَنِّي بِأَقْوَالِ الْوُشَاةِ وَلَمْ ¤ أُذْنِبْ وَإِنْ كَثُرَتْ فِي الْأَقَاوِيلُ إِنَّ الرَّسُولَ لَنُورٌ يُسْتَضَاءُ بِهِ ¤ مُهَنَّدٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ مَسْلُولُ فِي عُصْبَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ قَائِلُهُمْ ¤ بِبَطْنِ مَكَّةَ لَمَّا أَسْلَمُوا : زُولُوا زَالُوا فَمَا زَالَ أَنْكَاسٌ وَلَا كُشُفٌ ¤ عِنْدَ اللِّقَاءِ وَلَا مَيْلٌ مَغَازِيلُ يَمْشُونَ مَشْيَ الْجِمَالِ الزُّهْرِ يَعْصِمُهُمْ ¤ ضَرْبٌ إِذَا عَرَّدَ السُّودُ التَّنَابِيلُ شُمُّ الْعَرَانِينَ أَبْطَالٌ لَبُوسُهُمُ ¤ مِنْ نَسْجِ دَاوُدَ فِي الْهَيْجَا سَرَابِيلُ بِيضٌ سَوَابِغُ قَدْ شُكَّتْ لَهَا حَلَقٌ ¤ كَأَنَّهَا حَلَقُ الْقَفْعَاءِ مَجْدُولُ لَيْسُوا مَفَارِيحَ إِنْ نَالَتْ رِمَاحُهُمُ ¤ قَوْمًا وَلَيْسُوا مَجَازِيعًا وَإِنْ نِيلُوا لَا يَقَعُ الطَّعْنُ إِلَّا فِي نُحُورِهِمُ ¤ وَمَا لَهُمْ عَنْ حِيَاضِ الْمَوْتِ تَهْلِيلُ . ¤ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : فَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ قَتَادَةَ قَالَ : فَلَمَّا قَالَ : السُّودُ التَّنَابِيلُ . وَإِنَّمَا أَرَادَ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ؛ لِمَا كَانَ صَاحِبُهُمْ صَنَعَ وَخَصَّ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِدْحَتِهِ ، غَضِبَتْ عَلَيْهِ الْأَنْصَارُ ، فَبَعْدَ أَنْ أَسْلَمَ أَخَذَ يَمْدَحُ الْأَنْصَارَ ، وَيَذْكُرُ بَلَاءَهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَوْضِعَهُمْ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ مَنْ سَرَّهُ كَرَمُ الْحَيَاةِ فَلَا يَزَلْ فِي مِقْنَبٍ مِنْ صَالِحِي الْأَنْصَارِ ¤ الْبَاذِلِينَ نُفُوسَهُمْ لِنَبِيِّهِمْ يَوْمَ الْهِيَاجِ وَفِتْنَةِ الْحَارِ ¤ وَالضَّارِبِينَ النَّاسَ عَنْ أَحِيَاضِهِمْ بِالْمِشْرَفِيِّ وَبِالْقَنَا الْخَطَّارِ ¤ وَالنَّاظِرِينَ بِأَعْيُنٍ مُحْمَرَّةٍ كَالْجَمْرِ غَيْرَ كَلَيْلَةِ الْأَبْصَارِ ¤ يَتَطَهَّرُونَ كَأَنَّهُ نُسُكٌ لَهُمْ بِدِمَاءِ مَنْ قَتَلُوا مِنَ الْكُفَّارِ ¤ لَوْ يَعْلَمُ الْأَقْوَامُ عِلْمَيْ كُلَّهُ فِيهِمْ لَصَدَّقَنِي الَّذِينَ أُمَارِي ¤ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپسی پر جب مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو بحیر بن زہیر بن ابوسلمی نے اپنے بھائی کعب بن زہیر بن ابوسلمی کو خط لکھا اور انہیں یہ بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں ایک ایسے شخص کو قتل کروا دیا تھا ، جو آپ کی ہجو کرتا تھا اور آپ کو اذیت پہنچاتا تھا اور قریش کے شاعروں میں سے ابن زبعری اور ہبیرہ بن ابووہب کو جس طرف راستہ ملا ، وہ اس طرف بھاگ کھڑے ہوئے ، اگر تم اپنے بارے میں مناسب سمجھو ، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آ جاؤ ، کیونکہ وہ کسی ایسے فرد کو قتل نہیں کرواتے ہیں ، جو توبہ کر کے آیا ہو اور اگر تم ایسا نہیں کرتے ہو ، تو تم نجات تلاش کر لو تمہیں نجات نہیں ملے گی ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ نے اس سے پہلے ایسے اشعار کہے تھے ، جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تنقید کی تھی ، جب سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو یہ مکتوب ملا ، تو زمین ان کے لئے تنگ ہو گئی اور انہیں اپنی ذات کے بارے میں اندیشہ ہوا اور وہاں انہیں دشمن کے حوالے سے بھی خوف تھا ، تو انہیں اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ملا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جائیں ، تو وہ انہوں نے وہ قصد کیا ، جس میں انہوں نے اپنے خوف کا ذکر کرتے ہوئے اور اپنی پریشان کن صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان کی ہے ۔ پھر وہ وہاں سے نکلے اور مدینہ منورہ آئے ، وہ ایک ایسے شخص کے پاس ٹھہرے ، جس کا تعلق جہینہ قبیلے سے تھا اور اس کے ساتھ ان کی پرانی شناسائی تھی ، اگلے دن جہینہ قبیلے کا وہ فرد انہیں ساتھ لے کر مسجد میں آیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کرنی تھی ، اس شخص نے لوگوں کے ساتھ صبح کی نماز ادا کی ، پھر اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کر کے بتایا : یہ اللہ کے رسول ہیں ، تم اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور ان سے امان حاصل کر لو ، راوی کہتے ہیں : یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ وہ اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، یہاں تک کہ انہوں نے اپنا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پہچانتے نہیں تھے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کعب بن زہیر توبہ کرتے ہوئے اور مسلمان ہوتے ہوئے آیا ہے ، تاکہ آپ سے امان حاصل کر لے ، اگر میں اسے آپ کے پاس لے آؤں ، تو کیا آپ اس کی طرف سے یہ چیز قبول کر لیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کعب بن زہیر ہوں ۔ ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : عاصم بن عمر نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اُچھل کر ان کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! آپ مجھے موقع دیں کہ میں اللہ کے اس دشمن کی گردن اڑا دوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے چھوڑ دو ! کیونکہ یہ توبہ کرتے ہوئے اور ( کفر سے ) الگ ہو کر آیا ہے ، راوی کہتے ہیں : انصار کے قبیلے کو مجھ پر یہ غصہ تھا کہ میں نے ان کے متعلقہ فرد کے ساتھ جو طرز سلوک کیا تھا ، اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے مہاجرین کے بارے میں ہمیشہ بھلائی کی بات کہی تھی ( اور انصار پر تنقید کی تھی ) پھر انہوں نے وہ قصیدہ کہا: ، جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے سے پہلے کہا: تھا ۔ اس قصیدے کے کچھ اشعار یہ ہیں : ” جب وہ ( یعنی میری محبوبہ ) چلتی ہے ، تو اس کے دونوں پہلوؤں میں ، چغلی کرنے والے لوگ ہوتے ہیں ، اور ان کا ( مجھ سے ) یہ کہنا ہوتا ہے : اے ابن ابوسلمیٰ ! تم مارے جاؤ گے ، اور جس بھی دوست نے مجھے امید تھی ، ان میں سے ہر ایک نے یہ کہا: میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ، میں تم سے الگ ہوں ، تو میں نے کہا: میرا راستہ چھوڑ دو ! تمہارا باپ نہ رہے ، رحمن نے تقدیر میں جو طے کیا ہے ، وہ ہو کر رہے گا ، ہر ماں کا بیٹا خواہ کتنا ہی طویل عرصہ سلامت رہے ، ایک دن اس کو میت کے تختے پر ضرور اٹھایا جاتا ہے ، مجھے بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں وعید بیان کی ہے ( یعنی قتل کا فرمان جاری کیا ہے ) تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی کی امید کی جا سکتی ہے ( یا رسول اللہ ! ) نرمی کیجیے ! وہ ذات ( یعنی اللہ تعالیٰ ) آپ کو ہدایت پر ثابت قدم رکھے ، جس نے آپ کو انعام ( یا عطیہ ) کے طور پر قرآن دیا ہے ، جس میں وعظ و نصیحت کی باتیں بھی ہیں اور ( احکام کی ) تفصیلات بھی ہیں ، آپ چغلی کرنے والوں کی باتوں کی وجہ سے میری گرفت نہ کریں ، میں نے کوئی جرم نہیں کیا ، اگرچہ میرے بارے میں باتیں بہت کی گئی ہیں ، بیشک رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نور ہیں کہ ان سے روشنی حاصل کی جاتی ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے بے نیام ہندی تلوار ہیں ، جب لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تو قریش کے گروہ میں سے ایک کہنے والے نے مکہ کے نشیبی علاقے میں یہ کہا: تم چل پڑو ! تو وہ لوگ ( یعنی مہاجرین ) روانہ ہو گئے ( یعنی انہوں نے ہجرت کر لی ) حالانکہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہ تو وہ کمزور ہیں اور نہ ہی ( دشمن سے ) سامنا کرنے کے وقت ( یعنی جنگ میں ) ڈھال کے بغیر ہیں ، نہ تلوار کے بغیر ہیں ، نہ ہتھیاروں کے بغیر ہیں ، وہ ( جنگ میں ) یوں خوبصورتی سے چلتے ہیں ، جیسے سفید ( یعنی عمدہ قسم کے ) اونٹ چلتے ہیں ، اور ضرب اُن کی حفاظت کرتی ہے ، جب چھوٹے قد کے سیاہ فام لوگ منہ موڑ لیتے ہیں ، وہ ( مہاجرین ) اونچی ناک والے بہادر ہیں ، اور ( جنگ کے موقعہ پر ) ان کا لباس وہ قمیصیں ( یعنی زرہیں ) ہوتی ہیں جو سیدنا داؤد علیہ السلام نے ( لوہے سے ) تیار کی تھیں ( وہ زرہیں ) چمکدار اور بڑی ہیں ، جن کے حلقے ایک دوسرے میں پیوست ہوتے ہیں ، یوں جیسے وہ ” قفعاء “ ( نامی بوٹی ) کے مضبوط حلقے ہوں ، جب ان کے نیزے دشمن تک پہنچ جائیں ( اور دشمن کو مار دیں ) تو وہ خوش نہیں ہوتے ہیں اور جب انہیں خود کو نقصان پہنچے تو وہ واویلا نہیں کرتے ہیں ( دشمن کے ) نیزوں کے وار ( ان مہاجرین کے ) سینوں پر لگتے ہیں ، اور وہ ( مہاجرین ) موت کے حوضوں سے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ہیں ۔ “ ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : عاصم بن عمرو نے مجھے یہ بات بتائی ہے : جب انہوں نے ” السود التنابیل “ ( یعنی چھوٹے قد کے سیاہ فام ) کا لفظ کا استعمال کیا ، تو اس سے مراد انصار کا گروہ تھا کیونکہ ان کے ساتھی نے ایسا کیا تھا ، اور سیدنا کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ، قریش سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کا ذکر تعریف کے ساتھ ہی کیا تھا ، تو اس وجہ سے انصار کو ان پر غصہ آیا ، بعد میں جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، تو وہ انصار کی بھی تعریف کرنے لگے اور انہوں نے انصار کی ان کوششوں کا ذکر کیا ، جو ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اُن کی جو قدر و منزلت حاصل تھی اس کا ذکر کیا : ” جو شخص زندگی میں عزت چاہتا ہے وہ انصار کے نیک شہسواروں کے ساتھ رہے ، جنہوں نے جنگ کے موقعہ پر ، اور مخالفتوں کی آزمائش کے وقت اپنی جانیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خرچ کیں ، اور لوگوں کے حوضوں کے پاس ، اُن پر چیر پھاڑ کر دینے والی تلواروں اور نیزوں کے ذریعے ضربیں لگائیں ، وہ ( دشمن کو ) انگاروں جیسی سرخ آنکھوں کے ساتھ دیکھتے ہیں ، ان کا دیکھنا کمزور نہیں ہوتا ، وہ ( انصار ، دشمن کے ) خون سے طہارت حاصل کرتے ہیں ، جن کافروں کو انہوں نے قتل کیا ہو ، یوں جیسے وہ ( دشمن ) ان کا قربانی کا جانور ہو ، ان لوگوں ( یعنی انصار ) کے بارے میں ، مجھے جو علم ہے ، اگر وہ سارا علم باقی سب کو بھی حاصل ہو جائے ، تو وہ شخص بھی میری بات کی تصدیق کر دے گا ، جس کے ساتھ میں بحث کر رہا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16070
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (176/19)»