حدیث نمبر: 16006
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : لَمَّا بَلَغَنَا ظُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجْتُ وَافِدًا عَنْ قَوْمِي حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَلَقِيتُ أَصْحَابَهُ قَبْلَ لِقَائِهِ ، فَقَالُوا : بَشَّرَنَا بِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدَمَ عَلَيْنَا بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، فَقَالَ : " قَدْ جَاءَكُمْ وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ " . ثُمَّ لَقِيتُهُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَرَحَّبَ بِي ، وَأَدْنَى مَجْلِسِي وَبَسَطَ لِي رِدَاءَهُ فَأَجْلَسَنِي عَلَيْهِ ، ثُمَّ دَعَا فِي النَّاسِ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ ، ثُمَّ اطَّلَعَ الْمِنْبَرَ وَأَطْلَعَنِي مَعَهُ وَأَنَا دُونَهُ ، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، هَذَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ أَتَاكُمْ مِنْ بِلَادٍ بَعِيدَةٍ مِنْ بِلَادِ حَضْرَمَوْتَ ، طَائِعًا غَيْرَ مُكْرَهٍ ، بَقِيَّةُ أَبْنَاءِ الْمُلُوكِ ، بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ يَا حَجَرُ وَفِي وَلَدِكَ " . ثُمَّ نَزَلَ وَأَنْزَلَنِي مَنْزِلًا شَاسِعًا عَنِ الْمَدِينَةِ ، وَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ أَنْ يُبَوِّئَنِي إِيَّاهُ ، فَخَرَجْتُ وَخَرَجَ مَعِي حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ : يَا وَائِلُ ، إِنَّ الرَّمْضَاءَ قَدْ أَصَابَتْ بَطْنَ قَدَمِي فَأَرْدِفْنِي خَلْفَكَ ، فَقُلْتُ : مَا أَضِنُّ عَلَيْكَ بِهَذِهِ النَّاقَةِ ، وَلَكِنْ لَسْتَ مِنْ أَرْدَافِ الْمُلُوكِ وَأَكْرَهُ أَنْ أُعَيَّرَ بِكَ قَالَ : فَأَلْقِ إِلَيَّ حِذَاءَكَ أَتَوَقَّى بِهِ مِنْ حَرِّ الشَّمْسِ ، قُلْتُ : مَا أَضِنُّ عَلَيْكَ بِهَاتَيْنِ الْجِلْدَتَيْنِ ، وَلَكِنْ لَسْتَ مِمَّنْ يَلْبَسُ لِبَاسَ الْمُلُوكِ وَأَكْرَهُ أَنْ أُعَيَّرَ بِكَ . فَلَمَّا أَرَدْتُ الرُّجُوعَ إِلَى قَوْمِي أَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكُتُبٍ ثَلَاثَةٍ : مِنْهَا كِتَابٌ لِي خَالِصٌ يُفَضِّلُنِي فِيهِ عَلَى قَوْمِي ، وَكِتَابٌ لِي وَلِأَهْلِ بَيْتِي بِأَمْوَالِنَا هُنَاكَ ، وَكِتَابٌ لِي وَلِقَوْمِي . ¤ وَفِي كِتَابِي الْخَالِصِ : " بِسْمِ اللَّهِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى الْمُهَاجِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، إِنَّ وَائِلًا يُسْتَسْقَى وَيُتَرَفَّلُ عَلَى الْأَقْيَالِ حَيْثُ كَانُوا مِنْ حَضْرَمَوْتَ " . ¤ وَفِي كِتَابِيِ الَّذِي لِي وَلِأَهْلِ بَيْتِي : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى الْمُهَاجِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ لِأَبْنَاءِ مَعْشَرٍ وَأَبْنَاءِ ضَمَعَاجٍ أَقْيَالِ شَنُوءَةَ ، بِمَا كَانَ لَهُمْ فِيهَا مَنْ مُلُوكٍ وَمَزَاهِرَ وَعُمْرَانُ بَحْرٍ وَمِلْحٍ وَمَحْجَرٍ ، وَمَا كَانَ لَهُمْ مَنْ مَالٍ اتَّرَثُوهُ [وَمَاءٍ يَنَابَعَتْ ] وَمَا كَانَ لَهُمْ فِيهَا مِنْ مَالٍ بِحَضْرَمَوْتَ أَعْلَاهَا وَأَسْفَلِهَا ، مِنِّي الذِّمَّةُ وَالْجِوَارُ ، اللَّهُ لَهُمْ جَارٌ ، وَالْمُؤْمِنُونَ عَلَى ذَلِكَ أَنْصَارٌ " . ¤ وَفِي الْكِتَابِ الَّذِي لِي وَلِقَوْمِي : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَالْأَقْوَالِ الْعَيَاهِلَةِ مِنْ حَضْرَمَوْتَ ، بِإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ مِنَ الصِّرْمَةِ التِّيعَةِ وَلِصَاحِبِهَا الْثِّيمَةُ ، لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ ، وَلَا شِغَارَ وَلَا وِرَاطَ فِي الْإِسْلَامِ . لِكُلِّ عَشْرَةٍ مِنَ السَّرَايَا مَا يَحْمِلُ الْقِرَابُ مِنَ التَّمْرِ ، مَنْ أَحْيَا فَقَدْ أَرْبَى ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " . ¤ فَلَمَّا مَلَكَ مُعَاوِيَةُ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ : بُسْرُ بْنُ أَبِي أَرْطَاةَ ، فَقَالَ لَهُ : ضَمَمْتُ إِلَيْكَ النَّاحِيَةَ فَاخْرُجْ بِجَيْشِكَ ، فَإِذَا خَلَّفْتَ أَفْوَاهَ الشَّامِ فَضَعْ سَيْفَكَ ، فَاقْتُلْ مَنْ أَبَى بَيْعَتِي حَتَّى تَصِيرَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ ادْخُلِ الْمَدِينَةَ فَاقْتُلْ مَنْ أَبَى بَيْعَتِي ، وَإِنْ أَصَبْتَ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ حَيًّا فَائْتِنِي بِهِ ، فَفَعَلَ وَأَصَابَ وَائِلًا حَيًّا فَجَاءَ بِهِ إِلَيْهِ ، فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يُتَلَقَّى ، وَأَذِنَ لَهُ فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى سَرِيرِهِ ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : أَسَرِيرِي هَذَا أَفْضَلُ أَمْ ظَهْرُ نَاقَتِكَ ؟ فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، كُنْتُ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَكُفْرٍ ، وَكَانَتْ تِلْكَ سِيرَةَ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَدْ أَتَانَا اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ فَسَتَرَ الْإِسْلَامُ مَا فَعَلْتُ . قَالَ : فَمَا مَنَعَكَ مِنْ نَصْرِنَا وَقَدْ اتَّخَذَكَ عُثْمَانُ ثِقَةً وَصِهْرًا ؟ قُلْتُ : إِنَّكَ قَاتَلْتَ رَجُلًا هُوَ أَحَقُّ بِعُثْمَانَ مِنْكَ قَالَ : وَكَيْفَ يَكُونُ أَحَقَّ بِعُثْمَانَ مِنِّي وَأَنَا أَقْرَبُ إِلَى عُثْمَانَ فِي النَّسَبِ ؟ قُلْتُ : إِنِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ آخَى بَيْنَ عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ ؛ فَالْأَخُ أَوْلَى مِنِ ابْنِ الْعَمِّ ، وَلَسْتُ أُقَاتِلُ الْمُهَاجِرِينَ قَالَ : أَوَلَسْنَا مُهَاجِرِينَ ؟ قُلْتُ : أَوَلَسْنَا قَدِ اعْتَزَلْنَاكُمَا جَمِيعًا ؟ وَحُجَّةٌ أُخْرَى : حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ رَفَعَ رَأْسَهُ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَقَدْ حَضَرَهُ جَمْعٌ كَثِيرٌ ، ثُمَّ رَدَّ إِلَيْهِ بَصَرَهُ ، فَقَالَ : " أَتَتْكُمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ " . فَشَدَّدَ أَمْرَهَا وَعَجَّلَهُ وَقَبَّحَهُ ، فَقُلْتُ لَهُ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْفِتَنُ ؟ قَالَ : " يَا وَائِلُ ، إِذَا اخْتَلَفَ سَيْفَانِ فِي الْإِسْلَامِ فَاعْتَزِلْهُمَا " . فَقَالَ : أَصْبَحْتَ شِيعِيًّا ؟ فَقُلْتُ : لَا ، وَلَكِنِّي أَصْبَحْتُ نَاصِحًا لِلْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : لَوْ سَمِعْتُ ذَا وَعَلِمْتُهُ مَا أَقْدَمْتُكَ ، قُلْتُ : أَوَلَيْسَ قَدْ رَأَيْتَ مَا صَنَعَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ عِنْدَ مَقْتَلِ عُثْمَانَ ؟ انْتَهَى بِسَيْفِهِ إِلَى صَخْرَةٍ فَضَرَبَهُ حَتَّى انْكَسَرَ ، فَقَالَ : أُولَئِكَ قَوْمٌ يَحْمِلُونَ [ عَلَيْنَا ] . قُلْتُ : فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ " ؟ . ¤ فَقَالَ : اخْتَرْ أَيَّ الْبِلَادِ شِئْتَ ؛ فَإِنَّكَ لَسْتَ بِرَاجِعٍ إِلَى حَضْرَمَوْتَ ، فَقُلْتُ : عَشِيرَتِي بِالشَّامِ وَأَهْلُ بَيْتِي بِالْكُوفَةِ ، فَقَالَ : رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ مِنْ عَشَرَةٍ مِنْ عَشِيرَتِكَ ، فَقُلْتُ : مَا رَجَعْتُ إِلَى حَضْرَمَوْتَ سُرُورًا بِهَا ، وَمَا يَنْبَغِي لِلْمُهَاجِرِ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي هَاجَرَ مِنْهُ إِلَّا مِنْ عِلَّةٍ قَالَ : وَمَا عِلَّتُكَ ؟ قُلْتُ : قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْفِتَنِ ، فَحَيْثُ اخْتَلَفْتُمِ اعْتَزَلْنَاكُمْ ، وَحَيْثُ اجْتَمَعْتُمْ جِئْنَاكُمْ ، فَهَذِهِ الْعِلَّةُ . ¤ فَقَالَ : إِنِّي قَدْ وَلَّيْتُكَ الْكُوفَةَ فَسِرْ إِلَيْهَا ، فَقُلْتُ : مَا أَلِي بَعْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَحَدٍ أَمَا رَأَيْتَ أَبَا بَكْرٍ أَرَادَنِي فَأَبَيْتُ ؟ وَأَرَادَنِي عُمَرُ فَأَبَيْتُ ، وَأَرَادَنِي عُثْمَانُ فَأَبَيْتُ ، وَلَمْ أَتْرُكْ بَيْعَتَهُمْ . ¤ [ قَدْ ] جَاءَنِي كِتَابُ أَبِي بَكْرٍ حَيْثُ ارْتَدَّ أَهْلُ نَاحِيَتِنَا ، فَقُمْتُ فِيهِمْ حَتَّى رَدَّهُمُ اللَّهُ إِلَى الْإِسْلَامِ بِغَيْرِ وِلَايَةٍ ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أُمِّ الْحَكَمِ ، فَقَالَ : سِرْ فَقَدْ وَلَّيْتُكَ الْكُوفَةَ ، وَسِرْ بِوَائِلٍ فَأَكْرِمْهُ وَاقْضِ حَوَائِجَهُ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَسَأْتَ بِي الظَّنَّ ؛ تَأْمُرُنِي بِإِكْرَامِ مَنْ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْرَمَهُ ، وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَأَنْتَ ؟ فَسُرَّ مُعَاوِيَةُ بِذَلِكَ مِنْهُ ، فَقَدِمْتُ مَعَهُ الْكُوفَةِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَاتَ . ¤ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ : الْوِرَاطُ : الْقِمَارُ . وَالْأَقْوَالُ : الْمُلُوكُ . وَالْعَيَاهِلُ : الْعُظَمَاءُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی اطلاع ملی ، تو میں اپنی قوم کی طرف سے نمائندے کے طور پر روانہ ہوا ، یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ آیا ، میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونے سے پہلے آپ کے اصحاب سے ہوئی ، تو ان لوگوں نے بتایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آپ کے بارے میں خوشخبری سنائی ہے ، اس سے پہلے کہ آپ آئیں ، آپ کے آنے سے تین دن پہلے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خوشخبری سنائی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وائل بن حجر تمہارے پاس آنے والا ہے پھر میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، تو آپ نے مجھے خوش آمدید کہا: ، آپ نے میرے لئے اپنی چادر بچھائی اور اس پر مجھے بٹھایا پھر آپ نے لوگوں کو بلوایا لوگ آپ کے پاس اکٹھے ہو گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے ، آپ نے مجھے بھی منبر پر بٹھایا ، میں آپ کے نیچے والے درجے پر بیٹھا ، پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! یہ وائل بن حجر ہے ، یہ ” حضرموت “ کے علاقوں میں سے دور دراز کے علاقوں سے تمہارے پاس آیا ہے اور اپنی رضامندی سے آیا ہے ، زبردستی نہیں آیا ، یہ بادشاہوں کے خاندان سے ہے ، اے وائل ! اللہ تعالیٰ تم میں ، اور تمہاری اولاد میں برکت نصیب کرے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتر آئے ، آپ نے مجھے ٹھہرنے کے لئے ایک ایسی رہائش گاہ فراہم کی جو مدینہ منورہ سے دور تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ مجھے اس رہائش گاہ تک پہنچا دیں ، میں وہاں سے نکلا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی میرے ساتھ نکلے ، راستے میں کسی جگہ پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے وائل ! گرم ریت میرے پاس پاؤں کو نقصان پہنچا رہی ہے آپ مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیں ، میں نے کہا: میں آپ کو اس اونٹنی پر ضرور بٹھا لیتا ، لیکن آپ کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ بادشاہوں کے پیچھے بیٹھیں اور مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ آپ کے حوالے سے مجھے عار دلائی جائے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ اپنا جوتا مجھے دے دیں ، میں اس کے ذریعے دھوپ کی تپش سے بچ جاؤں گا ، میں نے کہا: میں چمڑے کے ان دو ٹکڑوں کے حوالے سے کنجوسی نہیں کرتا ، لیکن آپ اُن افراد میں سے ایک نہیں ہیں ، جو بادشاہوں کی طرح کا لباس پہنیں ، مجھے یہ بات ناگوار ہے کہ مجھے آپ کے حوالے سے عار دلائی جائے ۔ راوی کہتے ہیں : جب میں اپنی قوم کی طرف واپس گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین قسم کے مکتوبات دیے ، اُن میں سے ایک خالص میرے لئے تھا ، جس میں مجھے ، میری قوم پر فضیلت دی گئی تھی ، ایک میرے اور میرے اہل خانہ کے لئے تھا ، جو یہاں موجود میرے اموال کے بارے میں تھا اور ایک مکتوب میری قوم کے لئے تھا ۔ جو مکتوب خاص میرے لئے تھا اس میں یہ تحریر تھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مہاجر بن ابوامیہ کے نام ہے وائل کو حضرموت کے معززین سے صدقات وصول کرنے کا نگران مقرر کیا گیا ہے ۔ “ جو مکتوب میرے لئے اور میرے اہل خانہ کے لئے تھا اس میں یہ تحریر تھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مہاجر بن ابوامیہ کے نام ہے ، جو اس گروہ کے بیٹوں اور شنوہ کے معززین کے بیٹوں کے لیے ہے کہ وہاں ان کی جو بھی ملکیتی ( زمین ) اور کھیتی باڑی ہے اور زمینیں اور جگہیں ہیں ، اور دریا ( یا پانی ) اور نمک اور بستیوں کے نواحی علاقے ہیں ، اور جو بھی مال ہے جو انہیں وراثت میں ملا ہے ، وہ سب میری طرف سے ذمہ میں ہیں اور پناہ میں ہیں ، اللہ تعالیٰ اُن کا محافظ ہے اور اہل ایمان اس بارے میں مددگار ہیں ۔ “ جو مکتوب میرے لئے اور میری قوم کے لئے تھا ، اس میں یہ تحریر تھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وائل بن حجر اور حضرموت کے اکبرین اور معززین کے نام ہے کہ وہ نماز قائم کریں گے ، زکوۃ دیں گے ، جو اونٹوں اور بکریوں میں سے دی جائے گی ، اور ان کے مالکان پر مخصوص نصاب ( میں زکوۃ لازم ہو گی ) اسلام میں جلب ، جنب ، شغار اور ” وراط “ ( زکوۃ سے بچنے کے لیے جانور چھپانے ) کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، جنگی مہمات میں سے ہر دس افراد کے لیے اتنی کھجوریں دی جائیں گی جو تھیلی میں آ جائیں ، جو شخص پھل کے پکنے سے پہلے اس کو فروخت کرے گا تو یہ ممنوع ہو گا ، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ “ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حکمران بن گئے تو انہوں نے قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھیجا ، جس کا نام بسر بن ابوارطاۃ تھا ، انہوں نے اس سے کہا: تم اطراف کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لو اور اپنے لشکر کو لے کے نکلو ، اور جب تم شام کی حدود سے باہر نکل جاؤ تو اپنی تلوار اٹھا لینا اور جو شخص میری بیعت کا انکار کرے ، اسے قتل کر دینا ، یہاں تک کہ تم مدینہ منورہ پہنچ جاؤ ، پھر مدینہ میں داخل ہو جانا اور جو شخص میری بیعت کا انکار کرے اسے قتل کر دینا اور اگر تمہیں وائل بن حجر زندہ مل گیا ، تو اسے میرے پاس لے کر آنا ، اس شخص نے ایسا ہی کیا ، اسے سیدنا وائل رضی اللہ عنہ زندہ مل گئے ، وہ انہیں ساتھ لے کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت ان کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کیا گیا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی ، اور اپنے ساتھ اپنے پلنگ پر بٹھایا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ دریافت کیا : کیا میرا یہ پلنگ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ، یا آپ کی اونٹنی کی پشت زیادہ فضیلت رکھتی تھی ؟ میں نے کہا: اے امیرالمؤمنین ! میں زمانہ جاہلیت اور زمانہ کفر کے قریب تھا اور زمانہ جاہلیت کا یہی معمول تھا ، اب اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کی دولت سے نواز چکا ہے ، اور اسلام نے میری اس چیز کی پردہ پوشی کر لی ہے جو میں نے کیا تھا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا وجہ ہے آپ نے ہماری مدد کیوں نہیں کی ؟ جبکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کو اپنا قابل اعتماد ساتھی اور رشتے دار بھی بنا لیا تھا ، میں نے کہا: آپ اُس شخص کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں ، جو آپ کی بہ نسبت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زیادہ قریب ہے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیسے مجھ سے زیادہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا حق دار ہو سکتا ہے ؟ جبکہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نسبی اعتبار سے زیادہ قریبی تعلق رکھتا ہوں ، میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ، تو بھائی ، چچا زاد کی بہ نسبت زیادہ قریبی ہوتا ہے ، اور میں مہاجرین کے ساتھ لڑائی نہیں کر سکتا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ہم لوگ مہاجرین میں سے نہیں ہیں ؟ تو میں نے کہا: کیا ہم نے آپ دونوں گروہوں سے علیحدگی اختیار نہیں کی ہے ، پھر دوسری دلیل یہ ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اُٹھا کے مشرق کی طرف دیکھا ، اس وقت بہت سے لوگ آپ کے پاس موجود تھے ، پھر آپ نے اپنی نگاہ واپس کی اور فرمایا : تم لوگوں کے پاس تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند فتنے آئیں گے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے کی اہمیت اس کے جلدی آنے اور اس کے قبیح ہونے کو بیان کیا ، حاضرین میں سے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! فتنوں سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے وائل ! جب اسلام میں دو تلواریں ایک دوسرے کے مدمقابل ہو جائیں ، تو تم ان دونوں سے الگ ہو جانا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا آپ ایک الگ گروہ ہو گئے ہیں ؟ میں نے کہا: جی نہیں ! لیکن میں مسلمانوں کا خیرخواہ ہوں ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اگر آپ نے یہ بات سنی ہے اور آپ اس بات کا علم رکھتے ہیں ، تو پھر آپ آئے کیوں ہیں ؟ میں نے کہا: کیا آپ نے وہ چیز ملاحظہ نہیں کی ہے ؟ جو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے زمانے میں کیا تھا ، وہ اپنی تلوار لے کر چٹان کے پاس گئے اور انہوں نے اپنی تلوار چٹان پر مار کر اسے توڑ دیا تھا اور یہ کہا: تھا : یہ لوگ ہم پر حملہ آور ہوں گے ( یا یہ لوگ ہم پر بوجھ لادنا چاہتے ہیں ) ۔ میں نے کہا: پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا کیا کروں گا ؟ ” جو شخص انصار سے محبت رکھتا ہے ، تو وہ میرے ساتھ محبت کی وجہ سے اُن سے محبت رکھتا ہے اور جو شخص انصار سے بغض رکھتا ہے ، وہ میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے اُن کے ساتھ بغض رکھتا ہے ۔ “ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ جو شہر چاہیں ، اپنے لئے پسند کر لیں کیونکہ اب آپ واپس ” حضرموت “ تو نہیں جائیں گے ، میں نے کہا: میرے خاندان کے لوگ شام میں موجود ہیں ، میرے اہل خانہ کوفہ میں موجود ہیں ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کے اہل خانہ میں سے ایک شخص آپ کے خاندان کے دس افراد سے زیادہ بہتر ہے ، میں نے کہا: مجھے ” حضرموت “ واپس جا کر خوشی نہیں ہو گی اور ویسے بھی کسی مہاجر کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ جہاں سے وہ ہجرت کر کے گیا تھا ، اس جگہ واپس چلا جائے ، البتہ اگر کوئی علت ہو تو حکم مختلف ہے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ علت کیا ہے ؟ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان جو فتنوں کے بارے میں ہے کہ جب آپ لوگ اختلاف کا شکار ہوں ، تو ہم لوگ آپ سے لاتعلق ہو جائیں ، اور جب آپ لوگ اکٹھے ہو جائیں تو ہم آپ کے پاس آ جائیں ، تو یہ علت ہے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو کوفہ کا گورنر مقرر کرتا ہوں ، آپ وہاں چلے جائیں ، میں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لئے کوئی سرکاری عہدہ قبول نہیں کیا ، کیا آپ کو پتہ نہیں ہے ؟ کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے گورنر بنانا چاہا ، تو میں نے انکار کر دیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا کرنا چاہا ، تو میں نے انکار کر دیا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایسا کرنا چاہا ، تو میں نے انکار کر دیا اور میں نے اُن لوگوں کی بیعت کو چھوڑا نہیں تھا ، جب ہماری طرف کے لوگ مرتد ہوئے تھے ، تو میری طرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مکتوب آیا تھا ، میں اُن لوگوں کے درمیان موجود رہا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کی طرف لوٹا دیا اور یہ میرے کسی حکومتی عہدے کے بغیر ہوا تھا ، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن ام حکم کو بلایا اور فرمایا : تم روانہ ہو جاؤ ! میں تمہیں کوفہ کا گورنر مقرر کرتا ہوں اور تم سیدنا وائل رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے جاؤ ! اور ان کا احترام کرنا اور ان کی ضروریات پوری کرنا ، تو عبدالرحمن نے کہا: اے امیرالمؤمنین ! آپ نے میرے بارے میں برا گمان رکھا ہے ، آپ مجھے ایسے شخص کا احترام کرنے کا حکم دے رہے ہیں ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عزت افزائی کی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کی ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کی اور خود آپ نے بھی کی ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات پر خوش ہو گئے ، سیدنا وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں عبدالرحمن کے ہمراہ کوفہ آ گیا اور پھر سیدنا وائل رضی اللہ عنہ انتقال تک وہیں مقیم رہے ۔ محمد بن حجر نامی راوی کہتے ہیں : ” وراط “ سے مراد قمار ہے ” اقوال “ سے مراد بادشاہ ہیں اور ” عیاہل “ سے مراد معززین ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16006
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1176)»