مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى الْبَحْرِينِ تَبِعْتُهُ ، فَرَأَيْتُ مِنْهُ ثَلَاثَ خِصَالٍ لَا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ أَعْجَبُ . انْتَهَيْنَا إِلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ ، فَقَالَ : سَمُّوا اللَّهَ وَتَقَحَّمُوا ، فَسَمَّيْنَا وَتَقَحَّمْنَا فَعَبَرْنَا ، فَمَا بَلَّ الْمَاءُ أَسَافِلَ خِفَافِ إِبِلِنَا . فَلَمَّا قَفَلْنَا صِرْنَا مَعَهُ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : صَلُّوا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ دَعَا فَإِذَا سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ ، ثُمَّ أَرْخَتْ عَزَالِيهَا فَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا ، فَمَاتَ فَدَفَنَّاهُ فِي الرَّمْلِ ، فَلَمَّا صِرْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ قُلْنَا : يَجِيءُ سَبْعٌ فَيَأْكُلُهُ ، فَرَجَعْنَا فَلَمْ نَرَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَعْمَرٍ الْهَرَوَيُّ وَالِدُ إِسْمَاعِيلَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَّتُهُ فِي الْبَحْرِينِ ، وَحَصْرُهُمْ إِيَّاهُ وَنَصْرُهُ عَلَيْهِمْ فِي قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا ، تو میں بھی اُن کے پیچھے گیا ، میں نے ان کی تین چیزیں دیکھیں ، مجھے نہیں اندازہ ہو سکا کہ اُن میں زیادہ کون سی زیادہ حیران کن ہے ؟ جب ہم سمندر کے ساحل پر پہنچے ، تو انہوں نے کہا: اللہ کا نام لے کر اس میں داخل ہو جاؤ ، ہم نے اللہ کا نام لیا اور داخل ہو گئے ، اور ہم نے اسے عبور کر لیا اور ہمارے اونٹوں کے پاؤں کے نچلے حصے کو بھی پانی نے گیلا نہیں کیا ، جب ہم واپس آ رہے تھے ، تو ہمارا گزر ان کے ساتھ ایک بے آب و گیاہ سرزمین سے ہوا ، ہمارے پاس پانی نہیں تھا ، ہم نے ان کے سامنے اس کی شکایت کی ، تو انہوں نے فرمایا : تم لوگ دو رکعت ادا کرو ، پھر انہوں نے دعا کی ، تو ڈھال کی طرح کا بادل آیا اور پھر ہم پر موسلا دھار بارش شروع ہو گئی اور ہم نے پانی پی بھی لیا اور پینے کے لئے حاصل بھی کر لیا ( یا جانوروں کو بھی پلا دیا ) جب وہ دفن ہوئے ، تو ہم نے انہیں ریت میں دفن کیا ، ابھی ہم زیادہ دور نہیں گئے تھے کہ ہم نے یہ سوچا کہ کوئی درندہ آ کر ان کی لاش کی بے حرمتی کر سکتا ہے ، جب ہم واپس آئے تو وہ ہمیں ملے ہی نہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن معمر ہروی ہے ، جو اسماعیل کا والد ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے ” بحرین “ میں اُن کا واقعہ اور ان کا ان لوگوں کو محصور کرنا اور ان کے خلاف مدد حاصل کرنا ، اس سب کا ذکر مرتدین سے قتال سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ۔