حدیث نمبر: 16005
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هَذَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ جَاءَكُمْ لَمْ يَجِئْكُمْ رَغْبَةً وَلَا رَهْبَةً ، جَاءَكُمْ حُبًّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ " . وَبَسَطَ لَهُ رِدَاءَهُ وَأَجْلَسَهُ إِلَى جَنْبِهِ وَضَمَّهُ إِلَيْهِ ، وَأَصْعَدَهُ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ : " ارْفُقُوا بِهِ ؛ فَإِنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْمُلْكِ " . فَقَالَ : إِنَّ أَهْلِي غَلَبُونِي عَلَى الَّذِي لِي قَالَ : " أَنَا أُعْطِيكَهُ وَأُعْطِيكَ ضِعْفَهُ " . ¤ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا وَائِلُ بْنَ حُجْرٍ ، إِذَا صَلَّيْتَ فَاجْعَلْ يَدَيْكَ حِذَاءَ أُذُنَيْكَ ، وَالْمَرْأَةُ تَجْعَلُ يَدَيْهَا حِذَاءَ ثَدْيَيْهَا " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ حُجْرِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ عَمَّتِهَا : أُمِّ يَحْيَى بِنْتِ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَلَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہ وائل بن حجر ہے ، جو تمہارے پاس آیا ہے ، یہ کسی ( دنیاوی ) رغبت یا خوف کی وجہ سے تمہارے پاس نہیں آیا ہے ، یہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی وجہ سے تمہارے پاس آیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اپنی چادر بچھا دی اور انہیں اپنے پہلو میں بٹھایا اور انہیں اپنے ساتھ لگا لیا ، پھر آپ نے انہیں منبر پر بٹھایا پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اس کے ساتھ نرمی سے کام لو ! کیونکہ اس کی حکومت کا زمانہ قریب ہے ، انہوں نے عرض کی : میرے رشتہ دار میرے حق کے حوالے سے مجھ پر غالب آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ میں تمہیں دیدوں گا اور تمہیں اس کا دگنا دوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اے وائل بن حجر ! جب تم نماز پڑھو ، تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے مدمقابل رکھو اور عورت اپنے ہاتھ چھاتی کے مد مقابل رکھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیحین “ میں ان صحابی کے حوالے سے رفع یدین کے بارے میں حدیث مذکور ہے جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے میمونہ بنت حجر بن عبدالجبار کے حوالے سے اس خاتون کی پھوپھی ام یحیی بنت عبدالجبار سے نقل کی ہے اور میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16005
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (19/22)»