حدیث نمبر: 16004
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : بَلَغَنَا ظُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ فِي مُلْكٍ عَظِيمٍ وَطَاعَةٍ ، فَرَفَضْتُهُ وَخَرَجْتُ رَاغِبًا فِي اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ قَدْ بَشَّرَهُمْ بِقُدُومِي ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَرَدَّ عَلَيَّ وَبَسَطَ لِي رِدَاءَهُ وَأَجْلَسَنِي عَلَيْهِ ، ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرَهُ وَأَقْعَدَنِي مَعَهُ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّينَ ، وَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُمْ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، هَذَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ قَدْ أَتَاكُمْ مِنْ أَرْضٍ بَعِيدَةٍ مِنْ حَضْرَمَوْتَ طَائِعًا غَيْرَ مُكْرَهٍ ، رَاغِبًا فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ وَفِي دِينِهِ ، بَقِيَّةُ أَبْنَاءِ الْمُلُوكِ ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هُوَ إِلَّا أَنْ بَلَغَنَا ظُهُورُكَ ، وَنَحْنُ فِي مُلْكٍ عَظِيمٍ وَطَاعَةٍ عَظِيمَةٍ ، فَأَتَيْتُكَ رَاغِبًا فِي اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَفِي دِينِهِ . قَالَ : " صَدَقْتَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی اطلاع ملی ، ہم اس وقت ایک بڑی حکومت میں تھے اور ہماری اطاعت کی جاتی تھی ، لیکن میں نے اسے پرے کیا ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رغبت رکھتے ہوئے نکل کھڑا ہوا ، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو میری آمد کے بارے میں خوشخبری دے چکے تھے ، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو سلام کیا ، تو آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا ، آپ نے میرے لیے اپنی چادر کو بچھایا اور مجھے اس پر بٹھایا ، پھر آپ منبر پر چڑھے ، پھر آپ نے مجھے اپنے ساتھ بٹھایا ، پھر آپ نے دونوں ہاتھ بلند کر کے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، انبیاء کرام پر درود بھیجا ، لوگ آپ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے ، آپ نے فرمایا : ” اے لوگو ! یہ وائل بن حجر ہے ، یہ ” حضرموت “ کے دور دراز کے علاقے سے تمہارے پاس اپنی خوشی سے آیا ہے زبردستی نہیں آیا ، یہ اللہ اور اس کے رسول میں رغبت رکھتا ہے ، اور اللہ کے دین میں رغبت رکھتا ہے ، یہ بادشاہوں کی اولاد میں سے ہے ۔ “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں آپ کے ظہور کی اطلاع مل گئی تھی ، ہم اس وقت حکومت میں تھے اور ہماری بڑی فرمانبرداری ہوتی تھی ، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول کے دین میں رغبت رکھتے ہوئے آپ کے پاس آیا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نے سچ کہا: ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16004
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2745)»