حدیث نمبر: 15998
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَأْتِيكُمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ خَيْرُ ذِي يَمَنٍ ، عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةُ مَلَكٍ " . قَالَ : فَمَا مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ إِلَّا يَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مِنْهُ ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَاكِبٌ ، فَانْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، وَبَايَعَهُ وَهَاجَرَ . قَالَ : " مَنْ أَنْتَ ؟ " . قَالَ : أَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ ، فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جَنْبِهِ ، وَمَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَصَدْرِهِ وَبَطْنِهِ ، حَتَّى انْحَنَى جَرِيرٌ حَيَاءً أَنْ يُدْخِلَ يَدَهُ تَحْتَ إِزَارِهِ وَهُوَ يَدْعُو لَهُ بِالْبَرَكَةِ وَلِذُرِّيَّتِهِ ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَظَهْرَهُ وَهُوَ يَدْعُو لَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اس راستے سے تمہارے سامنے یمن کا بہترین فرد آئے گا ، اس کے چہرے پر فرشتے کے ہاتھ پھیرنے کا اثر ہو گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : حاضرین میں سے ہر فرد یہ آرزو کرنے لگا کہ آنے والا شخص اس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہو ، اسی دوران ایک سوار ان کے پاس آیا جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو وہ اپنی سواری سے اترا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اس کے ساتھ مصافحہ کیا ، اس سے بیعت لی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے بتایا : میں جریر بن عبداللہ بجلی ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پہلو میں بٹھا لیا ، پھر آپ نے اپنا دست مبارک ان کے سر ، ان کے چہرے اور ان کے سینے اور ان کے پیٹ پر پھیرا ، یہاں تک کہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ شرم کی وجہ سے آگے کی طرف جھک گئے ، انہیں یہ لگا کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہبند کے نیچے اپنا ہاتھ داخل کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران ان کے لئے اور ان کی اولاد کے لئے برکت کی دعا کرتے رہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر اور پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لئے دعا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب بجلی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15998
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف