حدیث نمبر: 15997
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا يَوْمًا قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ أَكْثَرُهُمْ مِنَ الْيَمَنِ ، إِذْ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذِهِ الثَّنِيَّةِ خَيْرُ ذِي يَمَنٍ " . فَبَقِيَ الْقَوْمُ كُلُّ رَجُلٍ يَرْجُو أَنْ يَكُونَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ، فَإِذَا هُمْ بِجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَقَدْ طَلَعَ مِنَ الثَّنِيَّةِ ، فَجَاءَ حَتَّى سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى أَصْحَابِهِ ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ بِأَجْمَعِهِمُ السَّلَامَ ، ثُمَّ بَسَطَ عَرْضَ رِدَائِهِ وَقَالَ لَهُ : " عَلَى هَذَا يَا جَرِيرُ فَاقْعُدْ " . فَقَعَدَ مَعَهُمْ مَلِيًّا ثُمَّ قَامَ فَانْصَرَفَ ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَقَدْ رَأَيْنَا الْيَوْمَ مِنْكَ مَنْظَرًا لِجَرِيرٍ مَا رَأَيْنَاهُ لِأَحَدٍ قَالَ : " نَعَمْ ؛ هَذَا كِرِيمُ قَوْمِهِ ، فَإِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن ضمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا ، ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا تعلق یمن سے تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے ارشاد فرمایا : تمہارے سامنے اس گھاٹی سے یمن کا بہترین فرد آئے گا ، تو تمام لوگ یہ توقع رکھنے لگے کہ شاید اس کے گھرانے کا کوئی فرد آ جائے ، تو اسی دوران گھاٹی سے سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سامنے آئے ، وہ آگے آئے ، یہاں تک کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو سلام کیا ، ان سب لوگوں نے سلام کا جواب دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کو بچھایا اور ان سے فرمایا : اے جریر ! اس پر بیٹھ جاؤ ، تو وہ ان لوگوں کے ساتھ کچھ دیر بیٹھے رہے ، پھر وہ اُٹھے اور واپس چلے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی : ہم نے جریر کے لئے آپ کی طرف سے ایک ایسی صورت حال دیکھی ہے ، جو ہم نے کسی کے لئے نہیں دیکھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جی ہاں ! یہ اپنی قوم کا معزز فرد ہے اور جب تمہارے پاس کسی قوم کا کوئی معزز فرد آئے ، تو تم اُس کی عزت افزائی کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15997
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2739)»