مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ : قَدِمْتُ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ حِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَبِسْنَا حُلَلَنَا بِبَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : مَنْ يُمْسِكُ لَنَا رَوَاحِلَنَا ؟ فَكُلُّ الْقَوْمِ أَحَبَّ الدُّخُولَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَرِهَ التَّخَلُّفَ عَنْهُ ، قَالَ عُثْمَانُ : وَكُنْتُ أَصْغَرَهُمْ ، فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتُمْ أَمْسَكْتُ لَكُمْ عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمْ عَهْدَ اللَّهِ لَتُمْسِكُنَّ لِي إِذَا خَرَجْتُمْ قَالُوا : فَذَلِكَ لَكَ ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجُوا ، فَقَالُوا : انْطَلَقَ بِنَا ، قُلْتُ : أَيْنَ ؟ قَالُوا : إِلَى أَهْلِكَ ، فَقُلْتُ : خَرَجْتُ مِنْ أَهْلِي حَتَّى إِذَا حَلَلْتُ بِبَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْجِعُ وَلَا أَدْخُلُ عَلَيْهِ وَقَدْ أَعْطَيْتُمُونِي مَا قَدْ عَلِمْتُمْ [ مِنَ الْعَهْدِ ] ؟ قَالُوا : فَاعْجَلْ لَنَا ؛ فَإِنَّا قَدْ كَفَيْنَاكَ الْمَسْأَلَةَ فَلَمْ نَدَعْ شَيْئًا إِلَّا سَأَلْنَاهُ ، فَدَخَلْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُفَقِّهَنِي فِي الدِّينِ وَيُعَلِّمَنِي قَالَ : " مَاذَا قُلْتَ ؟ " . فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ الْقَوْلَ ، فَقَالَ : " لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ ، اذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرٌ عَلَيْهِمْ وَعَلَى مَنْ تَقْدُمُ عَلَيْهِ مَنْ قَوْمِكَ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَيَّادٍ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ” ثقیف “ قبیلے کے وفد میں شامل ہو کر آیا ، جب وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ، ہم نے اپنے لباس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس پہنے ، پھر ان لوگوں نے دریافت کیا : کون ہماری سواریوں کی دیکھ بھال کرے گا ؟ سب لوگوں کو یہ بات پسند تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں ، اور کسی کو بھی پیچھے رہنا پسند نہیں تھا ، تو میں ان لوگوں میں سب سے کمسن تھا ، میں نے کہا: اگر تم لوگ چاہو ، تو میں تمہاری خاطر ان سواریوں کو روک کے رکھتا ہوں ، اس شرط پر کہ تم مجھے اللہ کے نام کا یہ عہد دو ، کہ جب تم باہر آ جاؤ گے ، تو تم مجھے بھی موقع دو گے ، ان لوگوں نے کہا: تمہیں یہ چیز مل گئی ، پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر وہ لوگ واپس آئے ، تو انہوں نے کہا: چلو ! چلیں ، میں نے دریافت کیا : کہاں ؟ انہوں نے کہا: اپنے گھر ، میں نے کہا: اپنے گھر سے تو نکل کے میں آیا ہوں ، اب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر پہنچا ہوں ، تو آپ سے ملے بغیر واپس چلا جاؤں ؟ تم لوگوں نے مجھے عہد دیا تھا ، جو تم جانتے ہو ان لوگوں نے کہا: اچھا پھر جلدی آ جانا ، کیونکہ ہم نے تمہاری جگہ تمام سوالات دریافت کر لیے ہیں ، کوئی چیز نہیں چھوڑی ، ہر چیز کے بارے میں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر لیا ہے ، راوی کہتے ہیں : پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے دین کی سمجھ بوجھ اور دین کا فہم عطا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے کیا کہا: ہے ؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بات دہرا دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ تمہارے ساتھیوں میں سے کسی نے اس چیز کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا ، تم جاؤ ! تم اُن لوگوں کے امیر ہو اور تمہاری قوم سے تعلق رکھنے والا جو بھی فرد ہو گا ، تم اُس کے امیر ہو گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حکیم بن حکیم بن عباد کا معاملہ مختلف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔