مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِتَابُ رَجُلٌ ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ : " أَجِبْ عَنِّي " . فَكَتَبَ جَوَابَهُ ثُمَّ قَرَأَهُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ ، اللَّهُمَّ وَفِّقْهُ " . فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ كَانَ يُشَاوِرُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُعْضَلًا ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤عبدالواحد بن ابوعون بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی شخص کا مکتوب آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم میری طرف سے جواب لکھو ! انہوں نے جواب لکھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کے سنایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے ٹھیک لکھا ہے ، اور اچھا کام کیا ہے ، اے اللہ ! تو اسے توفیق عطا فرما ! “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تھے ، تو وہ اُن سے مشورہ لیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” معضل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔