مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي ضُمَامٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ضمام رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ ضُمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَلَا أَرْقِيكَ يَا مُحَمَّدُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا ، مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ ضُمَامٌ : لَقَدْ قَرَأْتُ الْكُتُبَ ، وَالتَّوْرَاةَ ، وَالْإِنْجِيلَ ، وَالزَّبُورَ ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ هَذَا الْكَلَامِ ! أَعِدْهُنَّ عَلَيَّ ، فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ . ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّهُ أَسْلَمَ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ ضُمَادٍ - بِالدَّالِ - فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ ، وَحَدِيثُ ضُمَامٍ بِالْمِيمِ لَمْ أَجِدْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَذَكَرَهُ بِالْمِيمِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ضمام بن ثعلبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کیا میں آپ کو دم نہ کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اور اپنی ذات کے شر کے حوالے سے اور اپنے اعمال کی خرابیوں کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں ، جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب کر دے ، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ رہنے دے ، اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ “ تو ضمام نے کہا: میں نے کتابیں پڑھی ہیں ، تورات ، انجیل اور زبور پڑھی ہیں ، لیکن میں نے اس طرح کا کلام نہیں سنا ، آپ یہ کلمات میرے سامنے دہرائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے یہ کلمات دہرائے ، پھر راوی نے یہ بات ذکر کی ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں ” ضماد “ نامی فرد سے متعلق روایت مذکور ہے اور ” ضمام“ کا لفظ میں نے کسی روایت میں نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے فرد کا نام ” ضمام “ نقل کیا ہے اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔