حدیث نمبر: 15983
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : وَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قَبْرِ عَبْدِ اللَّهِ ذِي الْبِجَادَيْنِ ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا - وَهُوَ يَقُولُ : " نَاوِلُونِي صَاحِبَكُمَا " . حَتَّى وَسَّدَهُ فِي لَحْدِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَمْسَيْتُ عَنْهُ رَاضِيًا فَارْضَ عَنْهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ : عَبَّادِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَرْزَمِيِّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سن رہا تھا ، آپ سیدنا عبداللہ ذو بجادین رضی اللہ عنہ کی قبر میں موجود تھے ، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے ساتھی کو مجھے پکڑاؤ ! یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی لحد میں انہیں لٹایا ، جب آپ انہیں دفن کر کے فارغ ہوئے تو آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور یہ دعا کی : ” اے اللہ ! میں نے ایسی حالت میں شام کی ہے کہ میں اس سے راضی ہوں ، تو بھی اس سے راضی ہو جا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عباد بن أحمد عرزی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15983
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2736)»