کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عبداللہ ذوبجادین رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15981
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ : النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ : ذُو الْبِجَادَيْنِ : " إِنَّهُ أَوَّاهٌ " . وَذَلِكَ أَنَّهُ كَثِيرُ الذِّكْرِ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الْقُرْآنِ ، وَكَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ فِي الدُّعَاءِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے بارے میں یہ فرمایا : جنہیں ” زو بجادین“ کہا: جاتا تھا کہ یہ فرمانبردار ہے ، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ صاحب قرآن پڑھنے کے حوالے سے اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے تھے اور وہ بلند آواز میں دعا مانگا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15981
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (295/19) اخرجه احمد فى المسند (159/4)»
حدیث نمبر: 15982
وَعَنِ ابْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ : كُنْتُ أَحْرُسُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ قَالَ : فَرَآنِي فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَانْطَلَقْنَا فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ ؟ [ قَالَ : فَرَفَضَ يَدِي ثُمَّ ] قَالَ : " إِنَّكُمْ لَنْ تَنَالُوا هَذَا الْأَمْرَ بِالْمُغَالَبَةِ " . ثُمَّ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا أَحْرُسُهُ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ ، فَقُلْتُ : عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَلَّا ؛ إِنَّهُ أَوَّابٌ " . [ قَالَ : ] فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا [ هُوَ ] عَبْدُ اللَّهِ ذُو الْبِجَادَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن ادرع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کیا کرتا تھا ، ایک دن آپ رات کے وقت قضائے حاجت کے لئے نکلے ، جب آپ نے مجھے ملاحظہ فرمایا ، تو آپ نے مجھے پکڑ لیا ، ہم دونوں گئے ، ہمارا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ، جو نماز پڑھتے ہوئے بلند آواز میں قرآن کی تلاوت کر رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہو سکتا ہے یہ دکھاوا کرنے والا ہو ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ شخص نماز پڑھ رہا ہے اور بلند آواز میں قرآن پڑھ رہا ہے ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پرے کیا اور ارشاد فرمایا : تم ایک دوسرے کے مقابلے میں غلبے کے اظہار کے ذریعے اس معاملے تک نہیں پہنچ پاؤ گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، میں آپ کی حفاظت کر رہا تھا آپ کسی کام کے سلسلے میں تشریف لائے تھے ، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ، ہم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا ، وہ پڑھتے ہوئے بلند آواز میں تلاوت کر رہا تھا ، میں نے عرض کی : ہو سکتا ہے یہ شخص دکھاوا کرنے والا ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہرگز نہیں یہ فرمانبردار شخص ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عبداللہ ذو بجادین رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15982
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند 337/4»
حدیث نمبر: 15983
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : وَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قَبْرِ عَبْدِ اللَّهِ ذِي الْبِجَادَيْنِ ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا - وَهُوَ يَقُولُ : " نَاوِلُونِي صَاحِبَكُمَا " . حَتَّى وَسَّدَهُ فِي لَحْدِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَمْسَيْتُ عَنْهُ رَاضِيًا فَارْضَ عَنْهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ : عَبَّادِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَرْزَمِيِّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سن رہا تھا ، آپ سیدنا عبداللہ ذو بجادین رضی اللہ عنہ کی قبر میں موجود تھے ، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے ساتھی کو مجھے پکڑاؤ ! یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی لحد میں انہیں لٹایا ، جب آپ انہیں دفن کر کے فارغ ہوئے تو آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور یہ دعا کی : ” اے اللہ ! میں نے ایسی حالت میں شام کی ہے کہ میں اس سے راضی ہوں ، تو بھی اس سے راضی ہو جا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عباد بن أحمد عرزی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15983
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2736)»