حدیث نمبر: 15979
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ : رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرًا ، وَكَانَ يُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْهَدِيَّةَ فَيُجَهِّزُهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ " . ¤ وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّهُ ، وَكَانَ [ رَجُلًا ] دَمِيمًا ، فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ ، فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ لَا يُبْصِرُهُ ، فَقَالَ : أَرْسِلْنِي مِنْ هَذَا ؟ فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ لَا يَأْلُو مَا أَلْصَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ عَرَفَهُ ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ ؟ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا وَاللَّهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَكِنَّكَ عِنْدَ اللَّهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ " . أَوْ قَالَ : " [ لَكِنْ ] عِنْدَ اللَّهِ أَنْتَ غَالٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دیہاتی علاقوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جس کا نام ” زاہر “ تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دیا کرتا تھا ، جب وہ واپس جانے لگتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے ساز و سامان دیتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک زاہر ہمارا دیہاتی ہے اور ہم اس کے شہری ہیں ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے تھے ، وہ عام کی شکل و صورت کا شخص تھا ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے ، وہ اس وقت اپنا سامان فروخت کر رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے کی طرف سے اُسے اپنے ساتھ لپٹا لیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہیں سکا ، اُس نے کہا: مجھے چھوڑو ! کون ہے ؟ جب اس نے مڑ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ اپنی پشت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے سے مس کرنے لگا ، جب اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون اس غلام کو خریدے گا ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! آپ مجھے کم قیمت پائیں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم کم قیمت نہیں ہو ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم مہنگے ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15979
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2735) أخرجه أبو يعلى فى المسند (3456) اخرجه احمد فى المسند (161/3)»