حدیث نمبر: 15978
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى جُلَيْبِيبٍ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِيهَا قَالَ : أَسْتَأْمِرُ أُمَّهَا قَالَ : " فَنَعَمْ إِذًا " . قَالَ : فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا ، فَقَالَتْ : لَا هَا اللَّهِ إِذًا ، مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا جُلَيْبِيبًا وَقَدْ مَنَعْنَاهَا فُلَانًا وَفُلَانًا ؟ قَالَ : وَالْجَارِيَةُ فِي خِدْرِهَا تَسْمَعُ . قَالَ : فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِذَلِكَ ، فَقَالَتِ الْجَارِيَةُ : أَتُرِيدُونَ أَنْ تَرُدُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْرَهُ ؟ إِنْ كَانَ رَضِيَ لَكُمْ فَأَنْكِحُوهُ . قَالَ : فَكَأَنَّهَا جَلَّتْ عَنْ أَبْوَيْهَا ، وَقَالَا : صَدَقَتْ ، فَذَهَبَ أَبُوهَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنْ كُنْتَ رَضِيتَهُ فَقَدْ رَضِينَاهُ ، فَقَالَ : " إِنِّي قَدْ رَضِيتُهُ " . فَزَوَّجَهَا ، ثُمَّ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، فَرَكَبَ جُلَيْبِيبٌ فَوَجَدُوهُ قَدْ قُتِلَ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ قَتَلَهُمْ . قَالَ أَنَسٌ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا وَإِنَّهَا لَمِنْ أَنْفَقِ أَيِّمٍ بِالْمَدِينَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَكَأَنَّمَا حَلَّتْ عَنْ أَبَوَيْهَا عِقَالًا . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کے لئے انصار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے لئے ان کے والد کو شادی کا پیغام دیا ، تو ان صاحب نے کہا: میں لڑکی کی ماں سے مشورہ کر لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، پھر وہ صاحب اپنی بیوی کے پاس گئے اور اس کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو اس عورت نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! یہ نہیں ہو سکتا ، کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف جلیبیب ملا تھا ؟ حالانکہ ہم تو فلاں اور فلاں کے رشتے سے بھی انکار کر چکے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : لڑکی پردے میں موجود یہ باتیں سن رہی تھی ، راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتانے کے لئے جانے لگا ، تو اس لڑکی نے کہا: کیا آپ لوگ یہ ارادہ رکھتے ہیں ؟ کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو واپس کر دیں ، اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ لوگوں کے لئے اس رشتے سے راضی ہیں ، تو آپ اس کے ساتھ ہی شادی کروا دیں ، راوی کہتے ہیں : تو گویا اس لڑکی نے اپنے ماں باپ کے آگے سے پردہ ہٹا دیا ، اُن دونوں نے کہا: تم ٹھیک کہہ رہی ہو ، پھر اس لڑکی کا باپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور بولا: اگر آپ اس سے راضی ہیں ، تو ہم بھی اس سے راضی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس سے راضی ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے ساتھ اس کی شادی کروا دی ، پھر جنگ ہوئی ، سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ سوار ہو کر گئے ، تو لوگوں نے انہیں پایا کہ وہ شہید ہو چکے تھے اور ان کے اردگرد مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ موجود تھے ، جنہیں انہوں نے قتل کیا تھا ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اس خاتون کو دیکھا ہے کہ وہ مدینہ منورہ کی بیوہ خواتین میں ، سب سے زیادہ خرچ کرنے والی ( یعنی سب سے زیادہ خوشحال ) خاتون تھیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” گویا اس عورت نے اپنے ماں باپ کی رسیاں کھول دیں ۔ “ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15978
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2741) اخرجه احمد فى المسند (136/3)»