مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي زَاهِرِ بْنِ حِزَامٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت زاہر بن حزام رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَالِمٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ - عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَشْجَعَ - يُقَالُ لَهُ : أَزْهَرُ بْنُ حَرَامٍ الْأَشْجَعِيُّ - رَجُلٌ بَدَوِيٌّ وَكَانَ لَا يَزَالُ يَأْتِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطُرْفَةٍ أَوْ هَدِيَّةٍ ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سُوقِ الْمَدِينَةِ يَبِيعُ سِلْعَةً لَهُ ، وَلَمْ يَكُنْ أَتَاهُ - يَعْنِي فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ - فَاحْتَضَنَهُ مِنْ وَرَاءِ كَتِفِهِ ، فَالْتَفَتَ فَأَبْصَرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَبَّلَ كَفَّهُ ، فَقَالَ : " مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ ؟ " . قَالَ : إِذًا تَجِدُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ كَاسِدًا قَالَ : " لَكِنَّكَ عِنْدَ اللَّهِ رَبِيحٌ " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِكُلِّ حَاضِرٍ بَادِيَةٌ ، وَبَادِيَةُ آلِ مُحَمَّدٍ زَاهِرُ بْنُ حَرَامٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤سالم بن ابوالجعد ، اشجع قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جن کا نام سیدنا ازہر بن حرام اشجعی رضی اللہ عنہ تھا ، اور وہ ایک دیہاتی تھے ، اُن کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں : وہ ہمیشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی تحفہ لے کے آیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ منورہ کے بازار میں دیکھا کہ وہ اپنا سامان فروخت کر رہے تھے ، اس سے پہلے اُن کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات نہیں ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیچھے کی طرف سے اپنے ساتھ لپٹا لیا ، انہوں نے پیچھے مڑ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو نبی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی کو بوسہ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون اس غلام کو خریدے گا ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کم قیمت پائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم منافع بخش ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر شہری کا کوئی دیہاتی ہوتا ہے اور آل محمد کا دیہاتی ، زاہر بن حرام ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔