مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي جُلَيْبِيبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ أَبِي بَزْرَةَ الْأَسْلَمِيِّ أَنْ : جُلَيْبِيبًا كَانَ امْرَأً يَدْخُلُ عَلَى النِّسَاءِ يَمُرُّ بِهِنَّ وَيُلَاعِبُهُنَّ ، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي : لَا تُدْخِلَنَّ عَلَيْكُمْ جُلَيْبِيبًا ؛ إِنْ دَخَلَ عَلَيْكُمْ لَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ . قَالَ : وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ إِذَا كَانَ لِأَحَدِهِمْ أَيِّمٌ لَمْ يُزَوِّجْهَا حَتَّى يَعْلَمَ : هَلْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهَا حَاجَةٌ أَمْ لَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ : " زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ " . قَالَ : نَعَمْ وَكَرَامَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ وَنِعْمَةَ عَيْنٍ قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ أُرِيدُهَا لِنَفْسِي " . قَالَ : فَلِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِجُلَيْبِيبٍ " . قَالَ : [ يَا رَسُولَ اللَّهِ ] أُشَاوِرُ أُمَّهَا . [ فَأَتَى أُمَّهَا ] فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ ابْنَتَكِ قَالَتْ : نَعَمْ وَنِعْمَةَ عَيْنٍ . قَالَ : إِنَّهُ لَيْسَ يَخْطُبُهَا لِنَفْسِهِ ، إِنَّمَا يَخْطُبُهَا لِجُلَيْبِيبٍ . قَالَتْ : أَلِجُلَيْبِيبٍ إِنِيهْ أَلِجُلَيْبِيبٍ إِنِيهْ ، لَا لَعَمْرُ اللَّهِ لَا نُزَوِّجُهُ . فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ لِيَأْتِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيُخْبِرَهُ بِمَا قَالَتْ أُمُّهَا قَالَتِ الْجَارِيَةُ : مَنْ خَطَبَنِي إِلَيْكُمْ ؟ فَأَخْبَرَتْهَا أُمُّهَا ، فَقَالَتْ : أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْرَهُ ؟ ! ، ادْفَعُونِي إِلَيْهِ ؛ فَإِنَّهُ لَنْ يُضَيِّعَنِي . فَانْطَلَقَ أَبُوهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : شَأْنُكَ بِهَا فَزَوَّجَهَا جُلَيْبِيبًا . قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ لَهُ قَالَ : فَلَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : " هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ ؟ " . قَالُوا : لَا . قَالَ : " لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا " . قَالَ : " فَاطْلُبُوهُ " . فَوَجَدُوهُ إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَتَلَهُمْ ثُمَّ قَتَلُوهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَا هُوَ ذَا إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَتَلَهُمْ ثُمَّ قَتَلُوهُ . فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " قَتَلَ سَبْعَةً ثُمَّ قَتَلُوهُ ، هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ " . - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا - . ¤ ثُمَّ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى سَاعِدَيْهِ ، وَحُفِرَ لَهُ مَا لَهُ سَرِيرٌ إِلَّا سَاعِدَا النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ وَضَعَهُ فِي قَبْرِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ غَسَّلَهُ . ¤ قَالَ ثَابِتٌ : فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقُ مِنْهَا . ¤ وَحَدَّثَ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ثَابِتًا قَالَ : هَلْ تَعْلَمُ مَا دَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ صُبَّ عَلَيْهَا الْخَيْرَ صَبًّا ، وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهَا كَدًّا كَدًّا " . ¤ قَالَ : فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقُ مِنْهَا . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَالِيًا عَنِ الْخِطْبَةِ وَالتَّزْوِيجِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ ایک ایسے فرد تھے جو خواتین کے پاس چلے جاتے تھے ، وہ خواتین کے پاس سے گزرتے ہوئے اُن کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کر لیا کرتے تھے ، میں نے اپنی بیوی سے کہا: جلیبیب تمہارے ہاں اندر کبھی نہ آنے پائے ، اگر وہ تمہارے ہاں اندر آ گیا ، تو میں یہ کر دوں گا اور وہ کر دوں گا ، راوی بیان کرتے ہیں : انصار میں سے جب کسی شخص کے ہاں کوئی عورت بیوہ یا طلاق یافتہ ہوتی تھی ، تو وہ اس عورت کی شادی اس وقت تک نہیں کرتا تھا ، جب تک یہ بات پتہ نہ چل جائے ، کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں کوئی دلچسپی ہے یا نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے کہا: تم میرے کہنے پر اپنی بیٹی کی شادی کروا دو ، اس نے عرض کی : ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! یہ تو عزت افزائی کی بات ہے اور آنکھوں کی نعمت ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اُس کے ساتھ خود شادی نہیں کرنا چاہتا ، اس شخص نے دریافت کیا : پھر کس کے لئے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جلیبیب کے لئے ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس لڑکی کی ماں سے مشورہ کر لوں ، پھر وہ اس کی ماں کے پاس آیا اور بتایا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری بیٹی کے لئے شادی کا پیغام دیا ہے ، اس عورت نے کہا: ٹھیک ہے ، یہ تو خوشی کی بات ہے ، اس شخص نے بتایا : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کے لئے اپنی ذات کے لئے شادی کا پیغام نہیں دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلیبیب کے لئے شادی کا پیغام دیا ہے ، اس عورت نے کہا: کیا جلیبیب کے لئے ؟ یہ نہیں ہو سکتا ، اللہ کی قسم ! ہم اس کے ساتھ شادی نہیں کروائیں گے ، جب اس شخص نے اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کا ارادہ کیا ، تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لڑکی کی ماں کے جواب کے بارے میں بتائے ، تو اس لڑکی نے کہا: آپ لوگوں کو شادی کا پیغام کس نے دیا ہے ؟ اس لڑکی کی ماں نے اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس لڑکی نے کہا: کیا آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو مسترد کر رہے ہیں ؟ آپ مجھے اسی شخص کے حوالے کر دیں ، وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا ۔ پھر اس لڑکی کا باپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا اور یہ کہا: آپ جیسے مناسب سمجھیں کر دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کی شادی سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کر دی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگ میں حصہ لینے کے لئے تشریف لے گئے جب جنگ ختم ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ کسی کو غیر موجود پاتے ہو ؟ لوگوں نے بتایا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لیکن میں جلیبیب کو غیر موجود پا رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اسے تلاش کرو ، تو لوگوں نے ان صاحب کو پایا کہ وہ سات افراد کے پہلو میں موجود تھے ، اُن سات افراد کو سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا اور ان لوگوں کے وار کی وجہ سے سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ خود بھی شہید ہو چکے تھے اُن لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ سات افراد کے پہلو میں موجود تھے ، جنہیں انہوں نے قتل کیا تھا اور ان سات افراد نے انہیں شہید کر دیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا جلیب رضی اللہ عنہ کی لاش کے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اس نے سات افراد کو قتل کیا اور ان افراد نے اسے قتل کیا ، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی کلائیوں پر رکھا اور ان کے لئے قبر کھدوائی ، اُن کی میت کی چارپائی صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کلائیاں تھیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبر میں اتارا ۔ راوی نے یہ بات ذکر نہیں کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل دلوایا تھا یا نہیں ؟ ثابت نامی راوی کہتے ہیں : اُن کی بیوہ انصار میں سے ، سب سے زیادہ خرچ کرنے والی خاتون تھیں ۔ اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ نے ثابت کو
یہ روایت بیان کی ہے : انہوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے لئے کیا دعا کی تھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی : ” اے اللہ ! اس عورت پر بھلائی کو انڈیل دے اور اس کی زندگی کو مشکلات کا شکار نہ کرنا ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو انصار میں کوئی بھی بیوہ خاتون ، اس خاتون سے زیادہ خرچ کرنے والی ( یعنی خوشحال ) نہیں تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں شادی کا پیغام دینے اور شادی کرنے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔